مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 48

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 48 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہیں۔ان سے بھی صلہ رحمی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اپنوں سے۔اگر یہ عادت پیدا ہو جائے اور دونوں طرف سے صلہ رحمی کے یہ نمونے قائم ہو جائیں تو پھر کیا کبھی اس گھر میں تو تکار ہوسکتی ہے؟ کوئی لڑائی جھگڑا ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔کیونکہ اکثر جھگڑے ہی اس بات سے ہوتے ہیں کہ ذراسی بات ہوئی یا ماں باپ کی طرف سے کوئی رنجش پیدا ہوئی یا کسی کی ماں نے یا کسی کے باپ نے کوئی بات کہہ دی، اگر مذاق میں ہی کہہ دی اور کسی کو بری لگی تو فوراً ناراض ہو گیا کہ میں تمہاری ماں سے بات نہیں کروں گا ، میں تمہارے باپ سے بات نہیں کروں گا۔میں تمہارے بھائی سے بات نہیں کروں گا پھر الزام تراشیاں کہ وہ یہ ہیں اور وہ ہیں تو یہ زودرنجیاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ، یہی پھر بڑے جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہیں۔بیویوں پر ظلم نہ کریں معاشرے میں عورتیں اور مرد زیادہ مکس اپ (Mixup) ہونے لگ گئے ہیں۔اس سے کوئی یہ مطلب نہ لے لے کہ عورتوں کی مجلسوں میں بھی بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے اور بیویوں کی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھنے کی بھی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔خیال رکھنا بالکل اور چیز ہے اور بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ دوستانہ کر لینا بالکل اور چیز ہے۔اس سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ پھر بیوی تو ایک طرف رہ جاتی ہے اور سہیلی جو ہے وہ بیوی کا مقام حاصل کر لیتی ہے۔مرد تو پھر اپنی دنیا بسا لیتا ہے لیکن وہ پہلی بیوی بیچاری روتی رہتی ہے۔اور یہ حرکت سراسر ظلم ہے اور اس قسم کی اجازت اسلام نے قطعا نہیں دی۔کہ دیتے ہیں کہ ہمیں شادی کرنے کی اجازت ہے یہاں ان معاشروں میں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ، اُس بیوی کا بھی خیال رکھیں جس نے ایک لمبا عرصہ تنگی ترشی میں آپ کے ساتھ گزارا ہے۔آج یہاں پہنچ کر اگر حالات ٹھیک ہو گئے ہیں تو اس کو دھتکار دیں ، یہ کسی طرح بھی انصاف نہیں ہے۔بعض لوگوں کا بیویوں کے متعلق تکلیف دہ رویہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور ایسے معاملات سن کر بڑی تکلیف ہوتی ہے ،طبیعت بعض دفعہ بے چین ہو جاتی ہے کہ ہم میں سے بعض کس طرف چل پڑے ہیں۔بیوی کی ساری قربانیاں بھول جاتے ہیں حتی کہ بعض تو اس حد تک کمینگی پر آتے ہیں کہ بیوی سے رقم لے کر اس پر دباؤ ڈال کر اس کے ماں باپ سے رقم وصول کر کے کاروبار کرتے ہیں یا ز بر دستی بیوی کے پیسوں سے خریدے ہوئے مکان میں