مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 26

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 26 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی لگاتے لگاتے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو ہوتے ہیں اگر نیت نیک ہو اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کے ارادے سے ہو۔تو پھر وہ برکت بھی بے انتہا ڈالتا ہے۔خدام الاحمدیہ جرمنی کی ایک قابل تقلید مثال۔۔۔الحمد للہ کہ اس طرح دل کھول کر خرچ کرنے کے نظارے جماعت میں بے شمار نظر آتے ہیں۔اب خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر میں نے سو ( بیوت الذکر) کی تعمیر میں سنتی جو عموماً جماعت میں نظر آ رہی ہے، خدام الاحمدیہ کو صرف توجہ دلائی تھی ، عمومی طور پر جماعت کو بھی میں نے یہی کہنا تھا کہ اس طرف توجہ دیں۔تو اگلے روز ہی خدام الاحمدیہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال کے اپنے وعدے اور وصولی کے لیے ایک ملین یورو(Euro) کا، دوسری دنیا میں ہمارے ملکوں میں سمجھ نہیں آتی اس لیے 10 لاکھ یورو (Euro) کا وعدہ کر دیا اور پہلے جبکہ یہ وعدہ ڈھائی لاکھ یوروکا تھا۔اور ابھی جو انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ تقریباً جو پہلا وعدہ تھا اتنی تو اب ایک ہفتے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وصولی بھی ہو چکی ہے۔دل کھول کر چندے دینے کے اور روپوؤں کی تھیلیوں کو کھول کر رکھنے کے یہ نظارے ہمیں جماعت میں بے انتہا نظر آتے ہیں۔بلکہ ایک مخلص نے تو یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ زمین کی خرید سمیت ایک (بیت الذکر ) کا مکمل خرچ ادا کریں گے۔میں آج لازمی چندہ جات کی بات کر رہا ہوں اس لیے یہ واضح کر دوں کہ یہ جو چندہ جات ہیں ان تحریکات کی ادائیگیوں کا اثر آپ کے لازمی چندہ جات پر نہیں ہونا چاہیے۔۔۔زکوۃ کی ادائیگی کی تلقین ایک اہم چندہ جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں وہ زکوۃ ہے۔زکوۃ کا بھی ایک نصاب ہے اور معتین شرح ہے عموماً اس طرف توجہ کم ہوتی ہے۔زمینداروں کے لیے بھی جو کسی قسم کا ٹیکس نہیں دے رہے ہوتے ان پر زکوۃ واجب ہے۔اسی طرح جنہوں نے جانور وغیرہ بھیڑ ، بکریاں ، گائے وغیرہ پالی ہوتی ہیں ان پر بھی ایک معین تعداد سے زائد ہونے پر یا ایک معین تعداد ہونے تک پر زکوۃ ہے۔پھر بنگ میں یا کہیں بھی جو ایک معین رقم سال بھر پڑی رہے اس پر بھی زکوۃ ہوتی ہے۔پھر عورتوں کے زیوروں پر زکوۃ ہے۔اب ہر عورت کے پاس کچھ نہ کچھ زیور ضرور ہوتا ہے۔اور بعض عورتیں بلکہ اکثر عورتیں جو خانہ دار خاتون ہیں، جن کی کوئی کمائی نہیں ہوتی وہ لازمی چندہ جات تو نہیں دیتیں، دوسری