مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 25
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 25 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی خیانت نہیں کرنی چاہیے ، یا مجلسوں میں بلاوجہ ذکر کر کے امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔رعایت یا معافی چندہ کوئی شخص لیتا ہے تو یہ باتیں صرف متعلقہ عہد یداران تک ہی محدود رہنی چاہئیں۔یہ نہیں ہے کہ پھر اس غریب کو جتاتے پھریں کہ تم نے رعایت لی ہوئی ہے اس لیے اس کو حقیر سمجھا جائے۔بہر حال ہر ایک کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، اول تو اکثر میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ رعایت لیتے ہیں ان میں سے اکثریت کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جتنی جلد ہو سکے اپنی رعایت کی اجازت کو ختم کروا دیں اور چندہ پوری شرح سے ادا کریں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ جلد ہی دوبارہ اس نظام میں شامل ہو جائیں جہاں پوری شرح پر چندہ دیا جا سکے۔ایسے لوگ بہت سارے ہیں اور جو نہیں ہیں ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ہر ایک شخص کا خود بھی فرض بنتا ہے کہ اپنا جائزہ لیتا رہے تا کہ جب بھی توفیق ہو اور کچھ حالات بہتر ہوں جتنی جلدی ہو سکے شرح کے مطابق چندہ دینے کی کوشش کی جائے ، اللہ تعالیٰ سب کی توفیق میں اضافہ کرے۔کسی صورت میں بیکار نہ رہیں بعض دفعہ ایسے حالات آ جاتے ہیں کہ مثلاً ملازمت چھوٹ گئی یا کوئی اور وجہ بن گئی ، زمینداروں کی مثال میں پہلے دے آیا ہوں، کاروباری لوگوں کے بھی کاروبار مندے ہو جاتے ہیں یا بعض دفعہ ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں کہ کاروبار کو فروخت کرنا پڑتا ہے، بیچنا پڑتا ہے، ختم کرنا پڑتا ہے۔تو گو یہ ساری باتیں انسان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہی ہو رہی ہوتی ہیں۔اس کا نتیجہ انسان بھگتا ہے، یہ تو ایک علیحدہ مضمون۔ہے۔بہر حال ایسے حالات سے بھی مایوس ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہیے بلکہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے ، ہاتھ پیر مارتے رہنا چاہیے، چاہے چھوٹا موٹا کام ہی ہو، انسان کو کسی بھی کام کو ضرور کرنا چاہیے۔کئی لوگ ایسے ملتے ہیں جو بہت زیادہ مایوس ہو جاتے ہیں اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں ، ان کو بھی اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے۔اور اس سے مدد مانگتے ہوئے جو بھی چھوٹا موٹا کوئی کام ملے یا کاروبار ہو اس کو دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنا چاہیے۔اور کسی کام کو بھی عار نہیں سمجھنا چاہیے۔اگر اس نیست سے یہ کام شروع کریں گے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ چندے دینے ہیں پھر چندے پورے کرنے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان چھوٹے کا روباروں میں بھی بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے، بالکل معمولی کاروبار شروع کیا ، وسیع ہوتا گیا اور دکانوں کے مالک ہو گئے چھابڑی