مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 181

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 181 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہیں میں نے دیکھے ہیں۔تو اٹھا کر اس کو ایک طرف کر دیں تا کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔پھر کوئی آدمی آپ کو راستہ پوچھتا ہے، بڑوں سے تو بچ کے رہیں کیونکہ بعض دفعہ غلط قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن وہیں کھڑے کھڑے اگر آرام سے رستہ سمجھا سکتے ہیں تو اس کو راستہ سمجھا دیں۔یہ بھی خدمت خلق ہے۔پھر اپنے سکولوں میں اگر کوئی بچہ آپ سے سوال پوچھتا ہے کہ مجھے سمجھا دو، سمجھ نہیں آئی اور آپ کو وہ سوال آتا ہے تو اس کو سمجھا دیں۔یہ بھی خدمت خلق ہے۔اس طرح چھوٹی چھوٹی باتیں خدمت خلق کی یہ سیکھیں اور یہ احمدی بچے کا کام ہونا چاہیے۔محنت کے ساتھ پڑھائی کرنی چاہیے پھر جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں۔آپ دنیاوی تعلیم تو حاصل کرتے ہیں اور اس کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں لیکن جو بچے پوری طرح محنت نہیں کرتے ان کو اپنے سکول کی پڑھائی میں بھی پوری محنت کرنی چاہیے اور دین سیکھنے کی طرف بھی پوری محنت کرنی چاہئیے۔پوری توجہ سے دونوں قسم کی پڑہائیاں جاری رہنی چاہئیں تا کہ آپ کو دنیا کا علم بھی حاصل ہو بڑے ہو کر آپ دنیا کو بتا سکیں کہ ( دین حق ) کی صحیح تعلیم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے کیا اچھے طریق ہیں کیا صحیح طریق ہیں۔اس لیے دونوں قسم کی تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ہمیشہ ماں باپ کی فرمانبرداری کریں آپ لوگوں کے لیے پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ماں باپ کا کہنا ماننا۔بعض بچوں کی عادت ہوتی ہے بہت زیادہ ضد کرتے ہیں کسی چیز کی ضرورت ہوگی نہیں بڑی عمر کے بچے بھی میں نے دیکھ لیے ہیں ، تیرہ چودہ سال کی عمر میں بھی بعض دفعہ ضد کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے فلاں قسم کے کپڑے ہی لینے ہیں۔اس وقت گنجائش نہیں ہوتی یا نہیں خرید کے دے سکتے اماں ابا۔تو پھر ضد نہیں کرنی چاہیے۔ان کا ہمیشہ کہنا مانا چاہیے۔ان کی خدمت کرنی چاہیے کبھی ان کو تکلیف نہ پہنچے آپ لوگوں سے۔کیونکہ یہی حکم ہے ہیں کہ سب سے زیادہ خدمت جو ہے وہ دنیا میں اگر کسی کی کرنی ہے تو اپنے ماں باپ کی کرنی چاہیے اور ان کی ہر بات ماننی چاہیے جو نیکی کی بات ہو اور ہمیشہ نیک بات ہی مانی ہے سوائے اس کے کہ ( یہ بھی یہاں حکم ہے ) کہ ماں باپ کی کون سی بات نہیں مانتی؟ جہاں وہ ایسی بات کریں جو غیر شرعی ہو۔جو