مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 3

3 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم طور پر دُعا مانگنے کی۔اور اللہ میاں کا بھی یہ حکم ہے۔قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ بچوں کو ماں باپ کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔خاص طور پر یہ شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ انعام دیا۔اچھی صحت دی۔اچھی پر زندگی دی۔اچھے ماں باپ دیئے اور ہمیں اس جماعت میں شامل کیا جس نے انشاء اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرانا ہے۔اور ہمیں ان بچوں میں شامل کیا جنہوں نے بڑے ہوکر اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کی ہوئی ہے، گزارنی ہے۔اور وقف کی روح سے گزارنی ہے انشاء اللہ تعالی۔اور پھر یہ کہ بنیادی باتیں ہیں بعض جو واقفین نو کو بہت زیادہ آنی چاہئیں۔مثلاً اب سارے بچے یہاں صبح سے بیٹھے بیٹھے تھک گئے ہیں۔کافی ان کو نیند بھی آرہی ہے۔کچھ بیٹھے ہوئے ہیں انگڑائیاں لے رہے ہیں کچھ جمائیاں لے رہے ہیں۔اور ہاتھ منہ پر رکھے بغیر منہ کھول دیتے ہیں، یہ منع ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ جب آپ کو نیند آئے اور منہ کھول کر جمائی (Yawning) کرتے ہیں تو آپ ہاتھ سامنے منہ پر رکھیں۔یہ چیز بھی بڑی ضروری ہے۔(اب میں کہہ رہا ہوں اس بچے کا ہاتھ نہیں منہ کے سامنے۔تو یہ چیزیں بنیادی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔یہ ہر واقف نو نیچے کو یا درکھنی چاہئیں۔بڑی باتیں تو آپ سیکھ جائیں گے لیکن بنیادی اخلاق آپ کو سیکھنے بہت ضروری ہیں۔اور اُن میں سے یہی ہے۔نمازوں کی با قاعدگی، قرآن شریف پڑھنے کی توجہ، ماں باپ کا کہنا مانا اور ضد نہیں کرنی۔اپنے ہم عمر بچوں سے لڑائی نہیں کرنی۔کھانا کھانا ہے تو آداب سے کھانا ہے۔مجلس میں بیٹھنا ہے تو مجلس میں بیٹھنا آنا چاہیے۔ادھر ادھر ملنے کی بجائے تھوڑا سا صبر کریں۔پھر اگر تھکاوٹ ہے اور اباسی ( جمائی ) آتی ہے تو ہاتھ رکھ کر منہ کھولنا ہے۔منہ اس طرح ہی نہیں کھول دینا۔بھیڑیے کی طرح۔مختلف شعبوں میں واقفین نو بچوں کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اب رہ گئی چیز کہ ہمیں واقفین نو میں (انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ فلاں فلاں شعبے کے لیے بچے بھی تیار ہورہے ہیں) سب سے پہلے اب میں افریقہ کا دورہ کر کے آیا ہوں۔ہمیں وہاں ڈاکٹر ز کی ضرورت ہے۔ٹیچرز کی ضرورت ہے۔تو اپنی Preference ( ترجیحات) میں یہ شامل کریں کہ ہمیں ڈاکٹر چاہئیں اور ہمیں ٹیچر چاہئیں۔کل کو ہو سکتا ہے ہم وہاں کوئی میڈیکل کالج بھی کھولیں تو جب آپ لوگ بڑے ہوں گے تو جاکے اس لیول کے ڈاکٹر بھی چاہئیں جو پڑھا سکیں۔سکولوں کے لیول کے۔یونیورسٹی کے لیول کے بھی ٹیچر چاہئیں۔پھر لڑکیوں میں وکیل بن سکتی ہیں۔I۔T ( آئی ٹی) میں کام لڑکے لڑکیاں دونوں کر سکتے ہیں۔میڈیسن میں بھی لڑکے لڑکیاں دونوں آسکتے ہیں۔ٹیچنگ(Teaching) میں بھی دونوں