مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 105
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 105 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید و اللہ تعالی کسی کا بھی یہ مقصد نہیں ہے کہ آخری جو ان کی منزل ہے ، وہ اللہ تعالی کی طرف لے جانے والی ہو۔تقویٰ پر قائم کرنے والی ہو۔ان سب کے ذاتی مفاد ہوتے ہیں اس میں اور اس کی خاطر وہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔اور اگر کوئی نیک نیتی سے کر بھی رہا ہوتا ہے تو کچھ عرصہ کے بعد اس میں ان کی ذاتی اغراض شامل ہو جاتی ہیں، ذاتی دلچسپیاں شامل ہو جاتی ہیں یا ان تنظیموں کے کچھ لوگ ان کو اپنے ذاتی مفاد کی طرف موڑ لیتے ہیں۔کیونکہ روحانیت کوئی نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل کرنے کا اس کی رضا کو حاصل کرنے کا مقصد نہیں تو پھر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا داری آڑے آ جاتی ہے۔جنہوں نے بظاہر خدمت انسانیت کے پردے ڈالے ہوتے ہیں اپنی تنظیموں میں جیسا کہ میں نے کہا، اصل میں ان کا مقصد خدمت انسانیت اپنے نام و نمود کی وجہ سے ہوتا ہے۔اندر جھانک کر دیکھیں اگر ان کے تو دنیا داری نظر آجاتی ہے۔لیکن خدام الاحمدیہ کا مقصد یا جماعت احمدیہ کا مقصد یا جماعت کی کسی بھی ذیلی تنظیم کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے، اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے۔یہ اجتماعات جہاں علمی اور روحانی ترقی کے لیے ہوتے ہیں ، جسمانی پروگرام بھی ہوتے ہیں لیکن جسمانی کھیلیں جسم کی صحت بنانے کے لیے اس لیے ہیں تا کہ دین کی خاطر زیادہ خدمت کر سکیں۔نوجوانوں کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہوگی حضرت مصلح موعود جنہوں نے ان ذیلی تنظیموں کا قیام فرمایا تھا جیسا کہ میں نے کہا۔انہوں نے فرمایا تھا کہ ہماری جماعت کو نیکی ، تقوی، عبادت گذاری، دیانت، راستی یعنی سیچ اور عدل وانصاف میں ایسی ترقی کرنی چاہیے کہ نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی اس کا اعتراف کریں۔فرمایا کہ اس غرض کو پورا کرنے کے لیے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کی تحریکات جاری کی ہیں اور ان سب کا مقصد یا کام یہ ہے کہ نہ صرف اپنی ذات میں نیکی قائم کریں بلکہ دوسروں میں بھی نیکی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اور جب تک حتمی طور پر جبر و ظلم تعدی یعنی حد سے بڑھا ہوا ظلم ، بددیانتی جھوٹ وغیرہ کو نہ مٹادیا جائے اور جب تک ہرا میر ، غریب اور چھوٹا اور بڑا اس ذمہ داری کو محسوس نہ کرے کہ اس کا کام یہی نہیں کہ خود عدل و انصاف قائم کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ دوسروں سے بھی کروائے خواہ وہ افسر ہی کیوں نہ ہو۔ہماری جماعت اپنوں اور دوسروں کے سامنے کوئی اچھا نمونہ نہیں قائم کر سکتی اگر آپ یہ باتیں نہیں