مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 92
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 92 ارشادات حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 27 اگست 2004ء سے اقتباسات * يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ أُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُوْلِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَّ (سورة النساء آیت: 60) أَحْسَنُ تَأْوِيلًا۔اس کا ترجمہ ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی ، اور اگر تم کسی معاملے میں اُولُو الامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو۔اگر فی الحقیقت تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہتر طریقہ ہے اور اپنے انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔نظام کی اطاعت۔۔۔۔۔۔ہم سب پر فرض بنتا ہے کہ ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق قدرت ثانیہ کے اس جاری نظام کی بھی مکمل اطاعت کریں اور اپنی اطاعت کے معیاروں کو بلند کرتے چلے جائیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اطاعت کے معیاروں کو حاصل کرنے کے لیے قربانیاں بھی کرنی پڑتی ہیں اور صبر بھی دکھانا پڑتا ہے۔پھر دنیاوی لحاظ سے بھی جو حا کم ہے اس کی دنیاوی معاملات میں اطاعت ضروری ہے۔کسی بھی حکومت نے اپنے معاملات چلانے کے لیے جو ملکی قانون بنائے ہوئے ہیں ان کی پابندی ضروری ہے۔آپ اس ملک میں رہ رہے ہیں یہاں کے قوانین کی پابندی ضروری ہے بشرطیکہ قوانین مذہب سے کھیلنے والے نہ ہوں، اس سے براہ راست ٹکر لینے والے نہ ہوں جیسا کہ پاکستان میں ہے۔احمدیوں کے لیے بعض قوانین بنے ہوئے ہیں تو صرف اُن قوانین کی وہاں بھی پابندی ضروری ہے جو حکومت نے اپنا نظام چلانے کے لیے بنائے ہیں۔جو مذہب کا معاملہ ہے