مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 79

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 79 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس اید و اللہ تعالی شامل ہونا چاہیے تھا، نہیں ہور ہے۔جس سے مجھے فکر بھی پیدا ہوئی ہے اور میں نے سوچا ہے کہ آپ کے سامنے اعداد و شمار بھی رکھوں تو آپ بھی پریشان ہو جائیں گے۔وہ اعداد و شمار یہ ہیں کہ آج ننانوے سال پورے ہونے کے بعد بھی تقریباً 1905ء سے لے کر آج تک صرف اڑ میں ہزار کے قریب احمدیوں نے وصیت کی ہے۔اگلے سال انشاء اللہ تعالیٰ وصیت کے نظام کو قائم ہوئے سو سال ہو جائیں گے۔میری یہ خواہش ہے اور میں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ اس آسمانی نظام میں اپنی زندگیوں کو پاک کرنے کے لیے اپنی نسلوں کی زندگیوں کو پاک کرنے کے لیے شامل ہوں۔آگے آئیں اور اس ایک سال میں کم از کم پندرہ ہزارنٹی وصایا ہو جائیں تا کہ کم از کم پچاس ہزار وصایا تو ایسی ہوں کہ جو ہم کہہ سکیں کہ سوسال میں ہوئیں۔تو ایسے مومن نکلیں کہ کہا جاسکے کہ انہوں نے خدا کے مسیح کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔2008 ءتک چندہ دہندگان میں سے کم از کم %50 موصی ہو جائیں پھر بہت سے لوگوں کی طرف سے یہ تجویزیں بھی آئی ہیں کہ 2008ء میں خلافت کو بھی سو سال پورے ہو جائیں گے اس وقت خلافت کی بھی سو سالہ جو بلی منانی چاہیے تو بہر حال وہ تو ایک کمیٹی کام کر رہی ہے۔وہ کیا کرتے ہیں، رپورٹس دیں گے تو پتہ لگے گا۔لیکن میری یہ خواہش ہے کہ 2008ء میں جو خلافت کو قائم ہوئے انشاء اللہ تعالیٰ سو سال ہو جائیں گے تو دنیا کے ہر ملک میں ، ہر جماعت میں جو کمانے والے افراد ہیں ، جو چندہ دہند ہیں اُن میں سے کم از کم پچاس فیصد تو ایسے ہوں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس عظیم الشان نظام میں شامل ہو چکے ہوں۔اور روحانیت کو بڑھانے کے اور قربانیوں کے یہ اعلیٰ معیار قائم کرنے والے بن چکے ہوں۔اور یہ بھی جماعت کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک حقیر سا نذرانہ ہو گا جو جماعت خلافت کے سو سال پورے ہونے پر شکرانے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہی ہوگی۔اور اس میں جیسا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ایسے لوگ شامل ہونے چاہئیں جو انجام بالخیر کی فکر کرنے والے اور عبادات بجالانے والے ہیں۔خدام الاحمدیہ، انصار الله صف دوم اور لجنہ اماءاللہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں خدام الاحمدیہ، انصار اللہ صف دوم جو ہے اور لجنہ اماءاللہ کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔کیونکہ ستر پچھتر سال کی عمر میں پہنچ کر جب قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں تو اُس وقت وصیت تو بچا کھچا ہی