مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 80
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 80 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہے جو پیش کیا جاتا ہے۔امید ہے کہ احمدی نوجوان بھی اور خواتین بھی اس میں بھر پور کوشش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کو خاص طور پر میں کہ رہا ہوں کہ اپنے ساتھ اپنے خاوندوں اور بچوں کو بھی اس عظیم انقلابی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔دنیاوی لحاظ سے بھی اگر اس نظام کی اہمیت کا اندازہ لگانا ہے تو آج سے ساٹھ سال پہلے حضرت مصلح موعود نے ایک تقریر فرمائی جلسے کے موقع پر نظام نو کے نام سے چھپی ہوئی کتاب ہے۔اُسے پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو کہ آج کل دنیا کے ازموں اور مختلف نظاموں کے جو نعرے لگائے جارہے ہیں وہ سب کھو کھلے ہیں۔اور اگر اس زمانے میں کوئی انقلابی نظام ہے جودنیا کی تسکین کا باعث بن سکتا ہے، جو روح کی تسکین کا باعث بن سکتا ہے، جو انسانیت کی خدمت کرنے کا دعوی حقیقت میں کر سکتا ہے تو وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پیش کردہ نظام وصیت ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس نظام کی قدر نہ کرنے والوں کو انذار بھی بہت فرمایا ہے، ڈرایا بھی بہت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” بلا شبہ اُس نے ارادہ کیا ہے کہ اس انتظام سے منافق اور مومن میں تمیز کرے۔اور ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ جو لوگ اس الہی انتظام پر اطلاع پا کر بلا توقف اس فکر میں پڑتے ہیں کہ دسواں حصہ گل جائیداد کا خدا کی راہ میں دیں بلکہ اس سے زیادہ اپنا جوش دکھلاتے ہیں وہ اپنی ایمانداری پر مہر لگا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُوْلُوْا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ (العنكبوت:2-3) کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں اسی قدر پر راضی ہو جاؤں کہ وہ کہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور ابھی اُن کا امتحان نہ کیا جائے؟ اور یہ امتحان تو کچھ بھی چیز نہیں۔صحابہ کا امتحان جانوں کے مطالبہ پر کیا گیا اور انہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں دیے۔پھر ایسا گمان کہ کیوں یونہی عام اجازت ہر ایک کو نہ دی جائے کہ وہ اس قبرستان میں دفن کیا جائے کس قدر دور از حقیقت ہے۔اگر یہی روا ہو تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک زمانہ میں امتحان کی کیوں بنیاد ڈالی؟ وہ ہر ایک زمانہ میں چاہتا رہا ہے کہ خبیث اور طیب میں فرق کر کے دکھلاوے اس لیے اب بھی اُس نے ایسا ہی کیا۔“ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 327,328) فرمایا: ” یہ بھی یادر ہے کہ بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جو زمین کو تہ و بالا کر دے گا قریب ہے۔پس وہ جو معائنہ عذاب سے پہلے اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کر دیں گے اور نیز یہ بھی