مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 64

مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 64 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی حق ہے کہ اس کے لیے اس کا بھائی سمٹ کر بیٹھے اور اسے جگہ دے۔بیهقی فی شعب الايمان - مشکواۃ باب القيام) تو دیکھیں جب ہمارے آقا و مطاع اپنے عمل سے یہ دکھا رہے ہیں تو ہمیں کس قدر ان باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مجلس میں آجائے تو بعض لوگ اور زیادہ چوڑے ہو کے اور پھیل کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہمارے بیٹھنے میں تنگی نہ ہو۔جلسے کے دنوں میں خاص طور پہ جو مہمان آرہے ہیں اور یہاں والے بھی سن رہے ہیں، انشاء اللہ بہت سارے لوگ ہوں گے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بعض دفعہ جگہ کی تنگی ہو جاتی ہے۔انتظامیہ کے اندازے بالکل ختم ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں دوسروں کو ضرور جگہ دینی چاہیے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا جب کوئی آدمی جلسہ گاہ یا مسجد وغیرہ کے لیے اپنی جگہ سے اٹھے تو واپس آنے پر وہ اس جگہ کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب السلام باب اذا قام من مجلسه ثم عاد فهو احق به) تو بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے، وہ اس تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ فلاں جگہ اگر خالی ہو تو میں جا کر بیٹھوں یا بعض دفعہ کسی مجلس میں کسی کی کوئی پسندیدہ شخصیت یا کوئی دوست وغیرہ ہو تو اس کے اردگرد اگر جگہ نہیں ہوتی تو اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے بھی بڑی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح حاصل کیا جائے۔تو جب بھی موقع ملے کوئی جگہ خالی ہو چاہے کوئی عارضی طور پر پانی پینے کے لیے وہاں سے اٹھا ہو، کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہاں پہ بیٹھ جایا جائے۔اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ چاہے یہ دینی مجالس ہیں یا دعوتوں وغیرہ پر آپ اکٹھے ہوئے ہوئے ہیں یا کہیں بھی بیٹھے ہوتے ہیں۔جو کسی کام سے عارضی طور پر اٹھ کر اپنی جگہ سے گیا ہے تو یہ اُسی کی جگہ ہے کسی دوسرے کا حق نہیں پہنچتا کہ اس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔یہ بڑی غلط چیز ہے۔اور اگر وہ واپس آئے اور آپ ایک دومنٹ کے لیے بیٹھ بھی گئے ہیں تو فوراً اٹھ کر اس کو جگہ دینی چاہیے۔ایک روایت میں آتا ہے ابن عبدہ اپنے والد اور دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص مجلس میں آکر دو افراد کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔(ابوداؤد کتاب الادب)