مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 147
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 147 ارشادات حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی امراء ایک وقت مقررہ پر دفاتر میں حاضر ہوں بعض عہد یداروں کے متعلق شکوہ ہے کہ لوگ کسی کام کے لیے عہدیداروں کے پاس اپنے کام کا حرج کر کے جاتے ہیں تو بعض عہدیدار امراء، بعض دفعہ مہینہ مہینہ نہیں ملتے۔ہو سکتا ہے اس میں کچھ مبالغہ بھی ہو کیونکہ شکایت کرنے والے بعض دفعہ مبالغہ بھی کر جاتے ہیں لیکن دنوں بھی کسی سے کیوں چکر لگوائے جائیں۔اس لیے امراء کو چاہیے کہ وقت مقرر کریں کہ اس وقت دفتر ضرور حاضر ہوں گے اور پھر اس وقت میں لوگوں کی ضروریات پوری کریں۔بعض امراء یہ کرتے ہیں کہ اپنے نمائندے بٹھا دیتے ہیں اور ان نمائندوں کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ فلاں فیصلہ بھی کرنا ہے۔اب اگر اس فیصلے کے لیے جانا پڑے تو پھر ان کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ امراء خود جائیں یا پھر اپنے نمائندے کو پورے اختیار دیں کہ جو تم نے کرنا ہے کرو۔سیاه وسفید کے مالک ہو۔پھر امیر بنے کی ضرورت ہی نہیں ہے پھر تو اسی کو امیر بنادینا چاہیے۔پھر مسکراتے ہوئے اور خوش دلی سے ملیں۔جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کا معیار بڑا اونچا ہے۔ہر احمدی ، اگر امیر مسکرا کر ملتا ہے تو اس کی مسکراہٹ پر ہی خوش ہو جاتا ہے، چاہے کام ہو یا نہ ہو۔اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا۔معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔اگر چہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کی نیکی ہو۔(مسلم کتاب البر والصلة باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء) - تو مسکرا کر ملنا اور بھائی کے جذبات کا خیال رکھنا بھی نیکی ہے۔تو نیکیوں کا پلڑا تو جتنا بھی بھاری کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔اس لیے عہدیداران کو ، امراء کو خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔افراد جماعت اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھا ئیں اب میں افراد جماعت کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا نظام جماعت میں کیا کردار ہونا چاہیے۔پہلی بات یا درکھیں کہ جتنے زیادہ افراد جماعت کے معیار اعلیٰ ہوں گے اتنے زیادہ عہد یداران کے معیار بھی اعلیٰ ہوں گے۔پس ہر کوئی اپنے آپ کو دیکھے اور ان معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے فرائض یعنی ایک فرد جماعت کے عہدیدار کے لیے کہ اطاعت کرنی ہے اس کے بھی اعلیٰ نمونے