مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ دوم) — Page 95

95 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس اید اللہ تعالی مشعل راہ جلد پنجم حصہ دوم میرے خلاف لیکن میں نے صبر کیا لیکن فیصلہ بہر حال غلط تھا۔میں نے مان تو لیا لیکن فیصلہ غلط تھا۔تو اس طرح لوگوں میں بیٹھ کر گھما پھرا کر یہ باتیں کرنا بھی صبر نہیں ہے۔صبر یہ ہے کہ خاموش ہو جاتے اور اپنی فریاد اللہ تعالیٰ کے آگے کرتے۔ہو سکتا ہے جہاں بیٹھ کر باتیں کی گئی ہوں وہاں ایسی طبیعت کے مالک لوگ بیٹھے ہوں جو یہ باتیں آگے لوگوں میں پھیلا کر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس طرح نظام کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو۔اور اس سے بعض دفعہ فتنے کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اور پھر جو لوگ اس فتنے میں ملوث ہو جاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ پھر وہ جاہلیت کی موت مرتے ہیں۔۔۔۔۔۔اپنے وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور آپ نے ایک جماعت قائم فرمائی جس نے دنیا کی رہنمائی کا کام اپنے ذمہ لیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو لوگ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہو گئے وہ گمراہی اور ضلالت پھیلانے کے لیے تو اکٹھے نہیں ہوئے بلکہ دنیا کو خدائے واحد کی پہچان کروانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔اس لیے اس جماعت کے اندر بھی وہی رہ سکتے ہیں جو کامل وفا اور اطاعت کے نمونے دکھانے والے بھی ہوں۔اور جب ایسے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو یقینا اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔پس ہر ایک جو وفا اور اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم نہیں کرتا وہ خود اپنا نقصان کر رہا ہے۔اطاعت میں برکت ہے اس لیے ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ برکت ہمیشہ نظام جماعت کی اطاعت اور اس کے ساتھ وابستہ رہنے میں ہی ہے۔اس لیے اگر کبھی کسی کے خلاف غلط فیصلہ ہو جاتا ہے، تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ، صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے، بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ہر ایک کی اپنی سمجھ ہے۔قضاء نے اگر کوئی فیصلہ کیا ہے اور ایک فریق کے مطابق وہ صحیح نہیں ہے پھر بھی اس پر عمل درآمد کروانا چاہیے اور دعا کریں کہ قاضیوں کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کی توفیق دے۔قاضیوں کو بھی غلطی لگ سکتی ہے لیکن ہر حالت میں اطاعت مقدم ہے۔