مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 56
مشعل راه جلد پنجم 56 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کے راہ میں وقف کر دیتا ہے۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ، ہمارے مولیٰ ، ہمارے ہادی، نبی امی صادق اور مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۱ ۱۶۲) پس یا درکھیں کہ امانت کی بہت بڑی اہمیت ہے۔اور جتنے زیادہ عہدیداران جماعت اور افراد جماعت گہرائی میں جا کر امانت کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اتنے ہی زیادہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہوتے چلے جائیں گے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے۔نظام جماعت مضبوط ہوگا، نظام خلافت مضبوط ہوگا۔آپ کی نظام سے وابستگی قائم رہے گی۔خلافت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے خلیفہ وقت کی تو ہمیشہ یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے متقیوں کا امام بنائے۔تو پھر ان دعاؤں کے مورد، ان کے حامل تو وہی لوگ ہوں گے جو اپنی امانتوں کا پاس کرنے والے، اپنے عہدوں کا پاس کرنے والے، اپنے خدا سے وفا کرنے والے ہوتے ہیں اور تقویٰ پر قائم رہنے والے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو یہ معیار قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔(ہفت روزہ الفضل انٹر نیشنل 3 تا 9 /اکتوبر 2003 صفحه 5 تا 7)