مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 55

مشعل راه جلد پنجم 55 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی انسان خدا تعالیٰ کے مکمل طور پر قبضہ میں ہو )۔اور اپنے وجود سے اس کو کھودے اور اس کی حکومت اپنے وجود پر کچھ نہ رہے اور سب حکومت خدا کی ہو جائے اور انسانی جوش سب مفقود ہو جائیں۔اور تمام آرزوئیں اور تمام ارادے اور تمام خواہشیں خدا میں ہو جائیں۔اور نفس امارہ کی تمام عمارتیں منہدم کر کے خاک میں ملا دی جائیں۔اور ایک ایسا پاک محل تقدس اور تطہیر کا دل ہی دل میں تیار کیا جاوے جس میں حضرت عزت نازل ہو سکیں اور اس کی روح اس میں آباد ہو سکے۔اس قدر تکمیل کے بعد کہا جائے گا کہ وہ امانتیں جو منعم حقیقی نے انسان کو دی تھیں وہ واپس کی گئیں تب ایسے شخص کو یہ آیت صادق آئے گی۔وَالَّذِينَ هُمْ لا منتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ “۔(مومنون: ٩) پھر آپ فرماتے ہیں:- انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حسن ہیں۔ایک حسن معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی عمل حتی الوسع ان کے متعلق فوت نہ ہو۔جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ” رَاعُونَ “ کا لفظ اسی طرف اشارہ کرتا ہے ایسا ہی لازم ہے کہ انسان مخلوق کی امانتوں اور عہد کی نسبت بھی یہی لحاظ رکھے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں تقویٰ سے کام لے جو حسن معاملہ ہے۔یا یوں کہو کہ روحانی خوبصورتی ہے“۔آپ مزید فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ {لبَاسُ التَّقْولی ) قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی انکے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقد ور کار بند ہو جائے“۔فرمایا:- امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل برطبق آیت {إِنَّ اللَّهَ يَا مُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلى اَهْلِهَا }۔اس ساری امانت کو جناب الہی