مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 54

مشعل راه جلد پنجم 54 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی جھوٹ کے زمرے میں آتی ہیں۔اور غیبت کرنے والوں کو اس حدیث کو یا درکھنا چاہیے کہ اگلے جہان میں ان کے ناخن تانبے کے ہو جائیں گے جس سے وہ اپنے چہرے اور سینے کا گوشت نوچ رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ہم اسی وقت سچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہے ہم اس کو واپس دیں یا واپس دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔ہماری جان اس کی امانت ہے اور وہ فرما تا ہے تُؤدُّوا الأمنتِ إِلى أَهْلِهَا " تغییر فرموده حضرت مسیح موعود" جلد دوم صفحه ۲۴۵، جدید ایڈیشن) آپ مزید فرماتے ہیں:۔رکھتا۔امانتوں کو ان کے حقداروں کو واپس دے دیا کرو۔خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں پھر آپ نے فرمایا:- مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں یعنی ادائے امانت اور ایفائے عہد کے بارہ میں کوئی دقیقہ تقویٰ اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس اور اس کے تمام قومی اور آنکھ کی بینائی اور کانوں کی شنوائی اور زبان کی گویائی اور ہاتھوں اور پیروں کی قوت یہ سب خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں جو اس نے ہمیں دی ہیں اور جس وقت چاہے اپنی امانت کو واپس لے سکتا ہے۔پس ان تمام امانتوں کی رعایت رکھنا یہ ہے کہ باریک در بار یک تقویٰ کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی خدمت میں نفس اور اس کے تمام قومی اور جسم اور اس کے تمام قومی اور جوارح سے لگایا جائے اس طرح پر کہ گویا یہ تمام چیزیں اس کی نہیں بلکہ خدا کی ہو جائیں۔اور اس کی مرضی اس کی نہیں بلکہ خدا کی مرضی کے موافق ان تمام قومی اور اعضاء کا حرکت اور سکون ہو۔اور اس کا ارادہ کچھ بھی نہ رہے بلکہ خدا کا ارادہ اس میں کام کرے اور خدا تعالی کے ہاتھ میں اس کا نفس ایسا ہو جیسا کہ مردہ زندہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اور یہ خودرائی سے بے دخل ہو ( یعنی اپنا وجود ہی نہ ہو)۔اور خدا تعالیٰ کا پورا تصرف اس کے وجود پر ہو جائے۔یہاں تک کہ اسی سے دیکھے اور اسی سے سنے اور اسی سے بولے اور اسی سے حرکت یا سکون کرے۔اور نفس کی دقیق در دقیق آلائشیں جو کسی خورد بین سے بھی نظر نہیں آسکتیں دور ہو کر فقط روح رہ جائے۔غرض مہیمنت خدا کی اس کا احاطہ کر لے۔( یعنی