مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 26

مشعل راه جلد پنجم 26 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی واقفین بچوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے ، خواہ تمہاری تو قعات اس کے متعلق کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اس کے نتیجہ میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ان کو سمجھائیں کہ اصل محبت تو خدا اور اس کے دین سے ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے خدائی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔آپ کو اگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اس کا ہر گز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کو حق ہے کہ اپنے ماحول ، اپنے دوستوں ، اپنے بچوں اور اپنی اولاد کے ایمانوں کو بھی آپ زخمی کرنا شروع کریں۔اپنے زخم حوصلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اور اس کے اند مال کے جوذ رائع با قاعدہ خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں ان کو اختیار کریں۔“ اپنے بچوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کریں (خطبہ جمعہ فرمودہ 10 فروری 1989ء) پھر ایک عام بات ہے جس کی طرف والدین کو توجہ دینی ہوگی۔وہ ہے اپنے بچوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کریں۔انہیں متقی بنا ئیں۔اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک والدین خود متقی نہ ہوں یا متقی بننے کی کوشش نہ کریں۔کیونکہ جب تک عمل نہیں کریں گے منہ کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔اگر بچہ دیکھ رہا ہے کہ میرے ماں باپ اپنے ہمسایوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ، اپنے بھائیوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔ذرا ذراسی بات پر میاں بیوی میں، ماں باپ میں ناچاقی اور جھگڑے شروع ہورہے ہیں۔تو پھر بچوں کی تربیت اور ان میں تقویٰ پیدا کرنا بہت مشکل ہو جائے گا اس لئے بچوں کی تربیت کی خاطر ہمیں بھی اپنی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔بچوں میں تقویٰ کس طرح پیدا کیا جائے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:- واقفین نو بچوں کو بچپن ہی سے متقی بنا ئیں اور ان کے ماحول کو پاک اور صاف رکھیں۔ان کے ساتھ ایسی حرکتیں نہ کریں جن کی وجہ سے ان کے دل دین سے ہٹ کر دنیا کی طرف مائل ہونے لگ جائیں۔پوری توجہ ان پر اس طرح دیں جس طرح ایک بہت ہی عزیز چیز کو ایک بہت ہی عظیم مقصد کے لئے تیار کیا جارہا ہوا اور اس طرح ان کے دل تقویٰ سے بھر جائیں پھر یہ آپ کے ہاتھ میں کھیلنے کے بجائے خدا کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں اور جس طرح ایک چیز دوسرے کے سپرد کر دی جاتی ہے تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعہ آپ یہ بچے شروع ہی سے خدا کے سپر د کر سکتے ہیں اور درمیان کے سارے واسطے ، سارے مراحل ہٹ