مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 25

مشعل راه جلد پنجم 25 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہوئے ہر قسم کی باتیں کرسکیں۔اس لئے ماں باپ دونوں کو بہر حال قربانی دینی پڑے گی۔جو عہد اپنے رب سے والدین نے باندھا ہے اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بہر حال والدین نے بھی قربانی دینی ہے۔اور یہ آپ پہلے بھی سن چکے ہیں اور حضور نے یہی نصیحت فرمائی ہے والدین کو بھی۔میں بھی یہی کہتا ہوں۔بعض دفعہ بعض والدین اپنے حقوق تو چھوڑتے نہیں بلکہ ناجائز غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن زور یہ ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارے بچے وقف نو میں ہیں اس لئے ہم نے اگر کوئی غلطی کر بھی لی ہے تو ہم سے نرمی کا سلوک کیا جائے۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔پھر یہ بات واضح کروں کہ کسی بھی قسم کی برائی دل میں تب راہ پاتی ہے جب اس کے اچھے یا برے ہونے کی تمیز اٹھ جائے۔بعض دفعہ ظاہر ہر قسم کی نیکی ایک شخص کر رہا ہوتا ہے۔نمازیں بھی پڑھ رہا ہے، ( بیت الذکر ) جارہا ہے، لوگوں سے اخلاق سے بھی پیش آرہا ہے لیکن نظام جماعت کے کسی فرد سے کسی وجہ سے ہلکا سا شکوہ بھی پیدا ہو جائے یا اپنی مرضی کا کوئی فیصلہ نہ ہو تو پہلے اس عہد یدار کے خلاف دل میں ایک رنجش پیدا ہوتی ہے۔پھر نظام کے بارہ میں کہیں ہلکا سا کوئی فقرہ کہ دیا، اس عہد یدار کی وجہ سے۔۔پھر گھر میں بچوں کے سامنے بیوی سے یا کسی اور عزیز سے کوئی بات کر لی تو اس طرح اس ماحول میں بچوں کے ذہنوں سے بھی نظام کا احترام اٹھ جاتا ہے۔اس احترام کو قائم کرنے کے لئے بہر حال بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔واقفین نو کو نظام کا احترام سکھایا جائے حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں یہ نصیحت آپ تک پہنچا تا ہوں :- بہت ضروری ہے کہ ( واقفین نو کو نظام کا احترام سکھایا جائے۔پھر اپنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے نظام جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہد یدار کے خلاف شکوہ ہو۔وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے پھر بھی اگر آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپ کے بچے ہمیشہ کے لئے اس سے زخمی ہو جائیں گے۔آپ تو شکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہرا زخم محسوس کریں گے۔یہ ایسا زخم ہوا کرتا ہے جس کو لگتا ہے اس کو کم لگتا ہے ، جو قریب کا دیکھنے والا ہے اس کو زیادہ لگتا ہے۔اس لئے اکثر وہ لوگ جو نظام جماعت پر تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں ان کی اولادوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتا ہے۔اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جاتی ہیں۔