مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 83

مشعل راه جلد پنجم 83 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کریں گے لغو سے اعراض کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں گے۔کیونکہ جب ایک شخص دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ کسی اور کے مال کو ناجائز طریقے سے کب حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور کب چاہتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے حقوق کو بالوں اور جب وہ مال جیسی عزیز چیزوں کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔تو پھر آنکھ ، ناک، کان ، زبان وغیرہ کو غیر محل پر کب استعمال کرنے لگا ؟“ یعنی کہ جہاں ان کو استعمال نہیں کرنا چاہیے وہاں کس طرح استعمال کر سکتا ہے۔کیونکہ یہ قاعدے کی بات ہے کہ جب ایک شخص اول درجہ کی نیکیوں کی نسبت اس قدر محتاط ہوتا ہے تو ادنی درجہ کی نیکیاں خود بخود عمل میں آتی جاتی ہیں۔“ یعنی جب بڑی بڑی نیکیوں کے بارے میں محتاط ہو جاتا ہے تو چھوٹی چھوٹی نیکیاں جو ہیں خود بخو د ہونے لگ جاتی ہیں، اس شخص سے۔پھر آپ نے فرمایا:- قرآن نے چونکہ کل مل اور فرقوں کو زیر نظر رکھ لیا تھا اور تمام ضرورتیں اس تک پہنچ کرختم ہو گئیں تھیں اس لئے قرآن نے عقائد کو بھی اور احکام عملی کو بھی مدلل کیا۔یعنی تمام فرقوں اور قوموں کو پیش نظر تھا اللہ تعالیٰ کے۔اس لئے ان سب کو مطابق حکم دیا گیا ہے۔قرآن شریف میں اور عقائد کو بھی احکام عملی کو بھی جو ہماری ایسے حکم ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا چاہیے دلیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے:۔قُلْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ - (النور: 31) یعنی مومنوں سے کہہ دے کہ کسی کے ستر کو آنکھ پھاڑ کر نہ دیکھیں اور باقی تمام فروج کی بھی حفاظت کریں۔لازم ہے کہ انسان چشم خوابیدہ ہوتا ہو یعنی کہ پوری آنکھ نہ کھولے۔بلکہ جھکی ہوئی نظر ہوتا کہ غیر محرم عورت کو دیکھ کرفتنہ میں نہ پڑے۔کان بھی فروج میں داخل ہیں جو قصص سن کر فتنہ میں پڑ جاتے ہیں یعنی کہ کان جو ہیں یہ بھی فروج میں داخل ہیں۔جو قصے سن کر باتیں سن کر پھر فتنے میں پڑ جاتے ہیں۔کیونکہ جب آپ جھگڑے کی باتیں ساری جو سنی جاتی ہیں جس طرح کہ پہلے میں نے کہا کہ اس سے کوئی بات کی سنی اور پھر جا کر لڑنے پہنچ گئے۔تو یہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔اسی لئے عام طور پر فرمایا کہ تم مور یوں کی حفاظت رکھو۔اور کہا