مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 84

مشعل راه جلد پنجم 84 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کہ بالکل بند رکھو۔ذلک از کی لھم یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔اور یہ طریق اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی رکھتا ہے۔جس کے ہوتے ہوئے بدکاروں میں نہ ہوگے۔یورپی معاشرہ میں بھی پردہ کا احترام کیا جاتا ہے اب جہاں یہ فرمایا ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو مردوں کو کہ عورتوں کو نہ دیکھو ، وہاں عورتوں کے لئے بھی ہے کہ ایک تو اپنے نظریں نیچی رکھو اور مردوں کو نہ دیکھیں۔دوسرے قرآن کریم کے حکم کے مطابق پردہ کریں۔اب یہاں یہ بہانے بنائے جاتے ہیں کہ یورپ میں پردہ کرنا بہت مشکل ہے۔یہ بالکل غلط بات ہے یہ ایک طرح کاComplex ہے میں سمجھتا ہوں اور عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی ہے ، تم اپنی تعلیم چھوڑ کر خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی بجائے معاشرے کو خوش کرنے کے بہانے تلاش کر رہے ہو۔بلکہ اس معاشرے میں بھی سینکڑوں، ہزاروں ہیں جو پردہ کرتی ہیں عورتیں ، ان کو زیادہ عزت اور احترام سے دیکھا جاتا ہے بہ نسبت پردہ نہ کرنے والیوں کے اور معاشرتی برائیاں بھی ان میں اور ان کی اولادوں میں زیادہ پیدا ہو رہی ہیں جو پردہ نہیں کرتیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔بہت ہی بعض دفعہ بھیا نک صورت حال سامنے آجاتی ہے۔Internet Chatting کے نقصانات اب Internet کے بارے میں بھی میں کہنا چاہتا ہوں وہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے پردہ نہ کرنے کے کہ Chatting ہو رہی ہے یونہی نمبر جب آکے Open کر رہے ہوتے ہیں Internet پر بات چیت Chatting شروع ہوگئی اور پھر شروع میں تو بعض دفعہ یہ نہیں پتہ ہوتا کہ کون بات کر رہا ہے؟ یہاں ہماری لڑکیاں بیٹھیں ہیں دوسری طرف پتہ نہیں لڑکا ہے یالڑ کی ہے اور بعض لڑکے خود چھپاتے ہیں اور بعض لڑکیوں سے لڑکی بن کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔اس طرح یہ بھی میرے علم میں آئی ہے یہ بات ، اور لڑکیاں سمجھ کر یہ تو بات چیت شروع ہوگئی جماعت کا تعارف شروع ہو گیا۔اور لڑکی خوش ہورہی ہوتی ہے کہ چلو دعوت الی اللہ کر رہی ہوں یہ پتہ نہیں کہ اس لڑکی کی کیا نیت ہے آپ کی نیست اگر صاف بھی ہے تو دوسری طرف جو لڑکا بیٹھا ہوا ہے Internet پر۔تو اس کی نیت کیا ہے۔یہ آپ کو کیا پتہ؟ اور آہستہ آہستہ بات اتنی آگے بڑھ جاتی ہے کہ تصویروں کے تبادلے شروع ہو جاتے ہیں۔اب تصویر میں دکھانا تو انتہائی بے پردگی کی بات ہے۔اور پھر بعض جگہوں پہ رشتے بھی ہوئے