مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 49

مشعل راه جلد پنجم 49 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والا۔لا ہے۔جس عہدے کے لئے منتخب ہو رہا ہے اس کا کچھ نہ کچھ علم بھی اس کو ہو۔پھر جماعت کے کاموں کے لئے وقت بھی دے سکتا ہو۔جس حد تک اس کی طاقت میں ہے وقت کی قربانی بھی دے سکتا ہو۔پھر صرف اس لئے کسی کو عہدیدار نہ بنائیں کہ وہ آپ کا عزیز ہے یا دوست ہے۔اور اتنا مصروف ہے کہ جماعتی کاموں کے لئے وقت نکالنا مشکل ہے۔لیکن عزیز اور دوست ہونے کی وجہ سے اس کو عہد یدار بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ ہے امانت کے حقدار کو امانت کو صحیح طرح نہ پہچانا۔اس نیت سے جب انتخابات ہوں گے کہ صحیح حقدار کو یہ امانت پہنچائی جائے تو اس میں برکت بھی پڑے گی ، انشاء اللہ اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے والے، نہ کہ اپنے اوپر ناز کرنے والے، اپنے آپ کو کسی قابل سمجھنے والے عہدیدار او پر آئیں گے۔اور جن کے ہر کام میں عاجزی ظاہر ہوتی ہوگی اور یہی لوگ آپ کے حقوق کا صحیح خیال رکھنے والے بھی ہوں گے۔اور نظام جماعت کو صحیح نہج پر چلانے والے بھی ہوں گے۔بعض دفعہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں عہد یدار بناؤ۔ان کے بارہ میں یہ حدیث ہے جو حضرت خلیفہ المسح الاول نے حقائق الفرقان میں کوٹ (Quote) کی ہے کہ:- حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برود و شخص آئے کہ ہمیں کام سپر د کیجیے۔ہم اس کے اہل ہیں۔فرمایا : جن کو ہم حکم فرما دیں ، خدا ان کی مدد کرتا ہے ، جو خود کام کو اپنے سر پر لے، اس کی مددنہیں ہوتی۔پس تم عہدے اپنے لئے خود نہ مانگو ( حقائق الفرقان جلد نمبر ۲ صفحه۳۰) لوگوں کے معاملات آپ کے پاس امانت ہیں پھر عہد یداران میں ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے بلکہ جماعت کا ہر کارکن یہ بات یادر کھے کہ اگر کسی دفتر میں کسی عہدیدار کے پاس کوئی معاملہ آتا ہے یا کسی کارکن کے علم میں کوئی معاملہ آتا ہے چاہے وہ ان کی نظر میں انتہائی چھوٹے سے چھوٹا معاملہ ہو۔وہ اس کے پاس امانت ہے اور اس کو حق نہیں پہنچتا کہ اس سے آگے یہ معاملہ لوگوں تک پہنچے۔ایک راز ہے ، ایک امانت ہے، پھر کسی کی کمزوریوں کو اچھالنا تو ویسے بھی ناپسندیدہ فعل ہے اور منع ہے بڑی سختی سے منع ہے۔اور بعض دفعہ تو یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کا وجود ہی نہیں ہوتا اور وہ بات بازار میں گردش کر رہی ہوتی ہے۔اور جب تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں کارکن نے فلاں سے بالکل اور رنگ میں کوئی بات کی تو جو کم از کم نہیں تو سو سے ضرب کھا کر باہر گردش کر رہی ہوتی ہے۔تو جس کے متعلق بات