مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 41

مشعل راه جلد پنجم 41 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کرتے وقت خیال رکھیں کہ وہ لوگوں کے گھروں کے سامنے یا ممنوعہ جگہوں پر پارک نہ ہوں۔نہ بیت الفضل کی سڑکوں پر اور نہ اسلام آباد میں۔ٹریفک کے قواعد کو لوظ رکھیں اور جلسہ گاہ میں شعبہ پارکنگ کے منتظمین سے مکمل تعاون کریں۔یہاں قیام کے دوران دوسرے ملکی قوانین کی بھی پوری پاسداری کریں ، پوری پابندی کریں ، اور بالخصوص ویزا کی میعاد ختم ہونے سے پہلے پہلے ضرور واپس تشریف لے جائیں۔اور جو دوست جلسہ سالانہ کی نیت سے ویزا لے کر یہاں آئے ہیں انہیں بہر حال اس کی بہت سختی سے پابندی کرنی ہوگی۔صفائی اور پردہ کے آداب پھر صفائی کے آداب ہیں۔ٹائلٹ میں صفائی کو لوظ رکھیں۔یادرکھیں کہ صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔پھر یہ ہے کہ خواتین کے لئے ہدایت ہے کہ خواتین گھومنے پھرنے میں احتیاط اور توجہ کی رعایت رکھیں۔تاہم جو خواتین احمدی ( نہیں اور پردے کی ایسی پابندی نہیں کرتیں ان سے صرف پردے کی درخواست کرنا ہی کافی ہے۔ہر گز کوئی زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہونی چاہیے۔اگر کسی وجہ سے کسی احمدی کو بھی نقاب کی دقت ہو تو پھر ایسی خواتین میک اپ میں نہیں ہونی چاہئیں۔سادہ رہیں کیونکہ میک اپ کرنا بہر حال مناسب نہیں۔سرڈھانپنے کی عادت کو اچھی طرح سے رواج دیں۔ایک ایسا ماحول پیدا ہو، خواتین کی طرف سے نظر آنا چاہیے کہ روحانی ماحول میں ہم یہ دن بسر کر رہے ہیں۔پردہ نہ کرنے کے بہانے نہیں تلاش ہونے چاہئیں۔اگر کوئی مجبوری ہے تو بہر حال جس حد تک حجاب ہے اس کو قائم رکھنا چاہیے اور یہ حکم بھی ہے۔مہمانوں کی عزت و احترام اور خدمت کو اپنا شعار بنائیں پھر ایک ہدایت ان لوگوں کے لئے ہے جو بعض دفعہ عموماً تو یہ نہیں ہوتا لیکن بعض دفعہ بعض مقامی لوگ لفٹ دیتے ہیں مہمانوں کو اور پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔تو بہر حال مہمان نوازی کے پیش نظر اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔پھر مہمانوں کی عزت و احترام اور خدمت کو اپنا شعار بنا ئیں اور محبت خلوص اور ایثار و قربانی کے جذبہ سے ان کی بے لوث خدمت کریں۔یہ پہلے بھی میں کہہ آیا ہوں۔کارکنان کو مہمانوں کے ساتھ نرم لہجہ اور خوش دلی سے بات کرنی چاہیے۔۔۔۔۔