مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 19

مشعل راه جلد پنجم 19 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی چالیس دن یہ گریہ وزاری کرتے رہے دن رات کہ اے خدا! مجھے اولاد دے اوروہ دے جو تیری غلام ہو جائے ، میری طرف سے ایک تحفہ ہو تیرے حضور۔تو یہ ہے سنت انبیاء ،سنت ابرار۔اور اس زمانہ میں اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے یہ ہے احمدی ماؤں اور باپوں کا عمل ، خوبصورت عمل ، جو اپنے بچوں کو قربان کرنے کے لئے پیش کر رہے ہیں، جہاد میں حصہ لے رہے ہیں لیکن علمی اور قلمی جہاد میں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی فوج میں داخل ہو کر۔اور انشاء اللہ تعالیٰ یہی لوگ فتح یاب ہوں گے جن میں خلافت اور نظام قائم ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا طریق کامیاب ہونے والا نہیں۔جس طرح دکھاوے کی نمازوں میں ہلاکت ہے اسی طرح اس دکھاوے کے جہاد میں بھی سوائے ہلاکت کے اور کچھ نہیں ملے گا۔لیکن جن ماؤں اور جن باپوں نے قربانی سے سرشار ہوکر ، اس جذبہ سے سرشار ہو کر، اپنے بچوں کو خدمت ( دین حق ) کے لئے پیش کیا ہے ان پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کیونکہ کچھ عرصہ بھی اگر توجہ نہ دلائی جائے تو بعض دفعہ والدین اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں اس لئے گو کہ شعبہ وقف نو توجہ دلاتا رہتا ہے لیکن پھر بھی میں نے محسوس کیا کہ کچھ اس بارہ میں عرض کیا جائے۔اس ضمن میں ایک اہم بات جو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ کے الفاظ میں میں پیش کرتا ہوں۔فرمایا:- اگر ہم ان واقفین نو کی پرورش اور تربیت سے غافل رہے تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے۔اور پھر ہر گز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اتفاقیہ واقعات ہوگئے ہیں۔اس لئے والدین کو چاہیے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گہری نظر رکھیں اور اگر خدانخوستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنی افتاد طبع کے لحاظ سے وقف کا اہل نہیں ہے تو ان کو دیانتداری اور تقوی کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہیے کہ میں نے تو اپنی صاف نیت سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بد قسمتی سے اس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں۔اگر ان کے باوجود جماعت اس کے لینے کے لئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں ور نہ اس وقف کو منسوخ کر دیا جائے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 10 فروری 1989 ) والدین نے تو اپنے بچوں کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔جماعت نے ان کی صحیح تربیت اور اٹھان کے لئے پروگرام بھی بنائے ہیں لیکن بچہ نظام جماعت کی تربیت میں تو ہفتہ میں چند گھنٹے ہی رہتا ہے۔ان چند گھنٹوں میں اس کی تربیت کا حق ادا تو نہیں ہو سکتا اس لئے یہ بہر حال ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تربیت پر توجہ دیں۔اور اس کے ساتھ پیدائش سے پہلے جس خلوص اور دعا کے ساتھ بچے کو پیش کیا تھا اس دعا کا