مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 20
مشعل راه جلد پنجم 20 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سلسلہ مستقلاً جاری رکھیں یہاں تک کہ بچہ ایک مفید وجود بن کر نظام جماعت میں سمویا جائے۔بلکہ اس کے بعد بھی زندگی کی آخری سانس تک ان کے لئے دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ بگڑتے پتہ نہیں لگتا۔اس لئے ہمیشہ انجام بخیر کی اور اس وقف کو آخر تک نبھانے کی طرف والدین کو بھی دعا کرتے رہنا چاہیے۔واقفین نو میں وفا کا مادہ پیدا کریں چند باتیں جو تربیت کے لئے ضروری ہیں اب میں آگے واقفین نو بچوں کی تربیت کے لئے جو والدین کو کرنا چاہیے اور یہ ضروری ہے پیش کرتا ہوں۔اس میں سب سے اہم بات وفا کا معاملہ ہے جس کے بغیر کوئی قربانی ،قربانی نہیں کہلا سکتی۔بچوں کو پانچ وقت نمازوں کی عادت ڈالیں۔اس کے علاوہ ایک اور اہم بات اور یہ بھی میرے نزدیک انتہائی اہم باتوں میں سے ایک ہے بلکہ سب سے اہم بات ہے کہ بچوں کو پانچ وقت نمازوں کی عادت ڈالیں۔کیونکہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین نہیں۔اس کی عادت بھی بچوں کو ڈالنی چاہیے اور اس کے لئے سب سے بڑا والدین کا اپنا نمونہ ہے۔اگر خود وہ نمازی ہوں گے تو بچے بھی نمازی بنیں گے۔نہیں تو صرف ان کی کھوکھلی نصیحتوں کا بچوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ فرماتے ہیں کہ: - بچپن سے تربیت کی ضرورت پڑتی ہے ، اچانک بچوں میں یہ عادت نہیں پڑا کرتی۔اس کا طریقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھایا ہے کہ سات سال کی عمر سے اس کو ساتھ نماز پڑھانا شروع کریں اور پیار سے ایسا کریں۔کوئی سختی کرنے کی ضرورت نہیں، کوئی مارنے کی ضرورت نہیں ہمحبت اور پیار سے اس کو پڑھاؤ ، اس کو عادت پڑ جاتی ہے۔دراصل جو ماں باپ نمازیں پڑھنے والے ہوں ان کے سات سال سے چھوٹی عمر کے بچے بھی نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ہم نے تو گھروں میں دیکھا ہے اپنے نواسوں وغیرہ کو بالکل چھوٹی عمر کے ڈیڑھ ڈیڑھ ، دو دو سال کی عمر کے ساتھ آکے تو نیت کر لیتے ہیں اور نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس لئے کہ ان کو اچھا لگتا ہے دیکھنے میں ، خدا کے حضور اٹھنا، بیٹھنا، جھکنا ان کو پیارا لگتا ہے اور وہ ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔مگر وہ نماز نہیں محض ایک نقل ہے جو اچھی نقل ہے۔