مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 181

181 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حرص بڑھتی چلی جاتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ جس ذریعے سے بھی مال حاصل ہوسکتا ہے کیا جائے۔دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے بھی زمینیں بنائی جاسکیں تو بنائی جائیں، دوسروں کے پلاٹوں پر بھی قبضہ کیا جائے، کاروبار پھیلایا جائے ، کارخانہ لگائے جائیں، سواریوں کے لئے کاریں خریدی جائیں، ایک گاڑی کی ضرورت ہے تو تین تین چار چار گاڑیاں رکھی جائیں اور پھر ہر نئے ماڈل کی کار خرید نا فرض سمجھا جاتا ہے۔تو فرمایا کہ یہ سب دنیوی زندگی کے عارضی سامان ہیں ایک مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ ان عارضی سامانوں کے پیچھے پھرتا رہے۔دنیا کے پیچھے پھرنا تو کافروں کا کام ہے، غیر مومنوں کا کام ہے ،تمہارا طمح نظر تو اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی عبادت اور اس کی مخلوق کی خدمت ہونا چاہیے۔لیکن بدقسمتی سے اس خوبصورت اور پاکیز تعلیم کے باوجود مسلمانوں نے دنیا کوہی شطح نظر بنالیا ہے اور حرص اور ہوس انتہا تک پہنچ چکی ہے۔دجال کے دجل کی ایک یہ بھی تدبیر تھی جس سے مقصد مسلمانوں کو دین سے پیچھے ہٹانا تھا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔اور قناعت اور سادگی کو بھلا دیا گیا ہے اور ہوا و ہوس کی طرف زیادہ رغبت ہے اور امیر سے امیر تر بنے کی دوڑ لگی ہے۔موجودہ دور کے احمدیوں کی ذمہ داریاں پس ان حالات میں خاص طور پر احمد یوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہر طبقہ کے احمدی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قناعت اور سادگی کو اپنا ئیں۔تو دین کی خدمت کے مواقع بھی میسر آئیں گے، دین کی خاطر مالی قربانی کی بھی توفیق ملے گی، اپنے ضرورت مند بھائیوں کی خدمت کی بھی توفیق ملے گی ، ان کی خدمت کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بھی توفیق ملے گی اور دنیا کے کاموں میں فنا ہونے سے بیچ کر اللہ تعالیٰ کی عبادات بجالانے کی بھی توفیق ملے گی۔اور آخر کو انسان نے اللہ تعالیٰ کے حضور ہی حاضر ہونا ہے، اسی طرح زندگی چلتی ہے۔ایک دن اس دنیا کو چھوڑنا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہی بہترین جگہ ہے اور یہ بہترین جگہ اس وقت حاصل ہوگی جب دنیا داری کو چھوڑ کر میری رضا کے حصول کی کوشش کرو گے اور میرے احکامات پر عمل کرو گے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:- وَمَا هَذِهِ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهُوٌوٌ لَعِبٌ۔وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا