مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 182
مشعل راه جلد پنجم 182 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی يَعْلَمُونَ (العنکبوت : ۶۵) یعنی اور یہ دنیا کی زندگی غفلت اور کھیل تماشا کے سوا کچھ بھی نہیں اور یقیناً آخرت کا گھر ہی دراصل حقیقی زندگی ہے کاش کہ وہ جانتے۔اخراجات میں میانہ روی اور اعتدال نصف معیشت ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اخراجات میں میانہ روی اور اعتدال نصف معیشت ہے۔اور لوگوں سے محبت سے پیش آنا نصف عقل ہے اور سوال کو بہتر رنگ میں پیش کرنا نصف علم ہے۔“ ( بیهقی فی شعب الایمان۔مشکوۃ باب الحذر الثانی فی السور صفحه ۴۳۰) تو دیکھیں میانہ روی اور اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنا اس حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تمہارے حالات ہیں ان پر صرف کنٹرول کرنے سے ہی اور اعتدال کے ساتھ اخراجات کرنے سے ہی مالی لحاظ سے اپنی ضروریات کو نصف پورا کر لیتے ہو۔پھر فرمایا، حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے ہی روایت ہے کہ :- " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاح پا گیا جس نے اس حالت میں فرمانبرداری اختیار کی جبکہ اس کا رزق صرف اس قدر ہو کہ جس میں بمشکل گزارا ہوتا ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے قناعت بخشی ہو۔(ترمذی کتاب الزھد ) تو دیکھیں قناعت کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔اس لئے کم پیسے والوں کے لئے بھی ایسی کوئی شرمندگی کی بات نہیں اگر شکر گزاری ہے تو فلاح بھی آپ کا مقدر ہے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:- ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی بھی ہو ( جو لوگ قناعت نہیں کرتے اور حرص میں رہتے ہیں ان کے بارے میں یہ ہے )۔ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی بھی ہو تب بھی وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی بھی آجائے۔اس کے منہ کو سوائے مٹی کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔اور اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے“۔(سنن الترمذی ابواب الزھد باب ما جاء لوکان لابن آدم وادیان من مال )