مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 95

مشعل راه جلد پنجم 95 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو سزا سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کرو۔اگر اس کے بچنے کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو معاملہ رفع دفع کرنے کی سوچو۔امام کا معاف اور درگزر کرنے میں غلطی کرنا سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے“۔فرمایا:- (جامع ترمذی ابواب الحدود، باب ما جاء فی درء الحدود ) پھر ایک حدیث ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے "جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اللہ اس کے حاجات اور مقاصد پورے نہیں کرے گا جب تک وہ لوگوں کی ضروریات پوری نہ کرے۔(الترغیب والترہیب بحوالہ طبرانی و ترمذی ) تو اس حدیث میں یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ بحیثیت عہدیدار تم پر بڑی ذمہ داری ہے، بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس لئے صرف یہ نہ سمجھو کہ عہد یدار بن کر صرف عاملہ میں بیٹھ کر جو معاملات لڑائی جھگڑے یا لین دین کے آتے ہیں ان کو ہی نمٹانا مقصود ہے۔بلکہ ہر عہدیدار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے ہر سیکرٹری اپنے فرائض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔سیکرٹری امور عامہ کے فرائض اب سیکرٹری امور عامہ کا صرف یہ کام ہی نہیں ہے کہ آپس کے فیصلے کروائے جائیں یا غلط حرکات اگر کسی کی دیکھیں تو انہیں دیکھ کر مرکز میں رپورٹ کر دی جائے۔اس کا یہ کام بھی ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بے کار افراد جن کو روزگار میسر نہیں، خدمت خلق کا بھی کام ہے اور روزگار مہیا کرنے کا بھی کام ہے اس کے لئے روز گار کی تلاش میں مدد کرے۔بعض لوگ طبعاً کاروباری ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی فہرستیں تیار کریں۔اگر ایسے افراد میں صلاحیت دیکھیں تو تھوڑی بہت مالی مدد کر کے معمولی کاروبار بھی ان سے شروع کر وایا جا سکتا ہے اور اگر ان میں صلاحیت ہوگی تو وہ کاروبار چمک بھی جائے گا اور آہستہ آہستہ بہتر کاروبار بن سکتا ہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو پاکستان میں بھی سائیکل پر پھیری لگا کر یا کسی دوکان کے تھڑے پر بیٹھ