مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 75

مشعل راه جلد پنجم 75 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی اللہ علیہ وسلم کے ایک واضح حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہو۔اسکو کم نظر سے دیکھ رہی ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھتے وقت اپنی صفوں کو سیدھا رکھو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے درمیان شیطان آکر کھڑا ہو جائے گا تو اس طرح اس عہدہ دار کی بات نہ مان کر اس کا تو کچھ ضائع نہیں ہو رہا آپ اپنے درمیان شیطان کو جگہ دے رہی ہیں۔تو اس طرح سے ایک تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کر رہی ہیں۔جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ انسانوں میں سب سے زیادہ محبت ہمیں اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔تو محبت کے تقاضے تو اس طرح پورے نہیں ہوتے۔محبت کرنے والے تو اپنے محبوب کی آنکھ کے اشارے کو بھی سمجھتے ہیں وہ تو ا سکے ایک ارشاد پر اپنی جانیں قربان کرنے والے ہوتے ہیں کجا یہ کہ اللہ کے گھر میں ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح حکم کی پابندی نہ کر رہے ہوں۔اور یہ سمجھو کہ یہ بات یہیں ختم ہوگئی ! نہیں ، جب تمہارے بچے تمہارا یہ عمل دیکھیں گے وہ بھی یہی سمجھیں گے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور آہستہ آہستہ انکے دلوں میں سے نہ صرف کسی بھی اچھی بات کہنے والے کا احترام اٹھ جائے گا بلکہ نظام کے کارکنوں کی اور عہدہ داروں کی عزت بھی ختم ہو جائے گی۔اور نہ صرف یہ کہ یہیں یہ سلسلہ رک جائے گا بلکہ اور آگے بڑھے گا اور ( دین حق) کی خوبصورت تعلیم سے بھی پرے ہٹنے والی ہو جائیں گی اولا دیں ، نام کے تو احمدی رہیں گے ایک احمدی گھرانہ میں پیدا ہوئے اس لئے احمدی ہیں۔لیکن خلافت اور نظام جماعت کا احترام کچھ نہیں رہے گا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھی سرسری نظر سے دیکھنے والے ہوں گے۔اور جب بھی کوئی ایسی بات ہوگی کوئی حکم دیا جائے گا انکو شریعت کے بارے میں یا مذہب کے بارے میں یا جماعت کے بارے میں بتایا جائے گا تو ایسے بچے پھر منہ پرے کر کے گزر جانے والے ہوتے ہیں کوئی توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔مائیں بچوں کی تربیت کی نگرانی کریں یہاں میں یہ بھی واضح کر دوں کہ ایسی ماؤں کے بچے پھر ایک وقت میں ان کے ہاتھ سے بھی نکل جاتے ہیں اسکے کنٹرول میں بھی نہیں رہتے اور پھر ماؤں کونکر ہوتی ہے کہ ہمارے بچے بگڑ گئے تو ان کے بگڑنے کے