مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 24

24 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم ہے اور اس نرمی کی حالت میں اس پر جو نقوش آپ قائم کر دیتے ہیں وہ دائی ہو جایا کرتے ہیں۔اس لئے وقت ہے تربیت کا اور تربیت کے مضمون میں یہ بات یادرکھیں کہ ماں باپ جتنی چاہیں زبانی تربیت کریں اگر ان کا کرداران کے قول کے مطابق نہیں تو بچے کمزوری کو لے لیں گے اور مضبوط پہلوکو چھوڑ دیں گے۔یہاں پھر والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔یہ دو نسلوں کے رابطے کے وقت ایک ایسا اصول ہے جس کو بھلانے کے نتیجہ میں قومیں بھی ہلاک ہو سکتی ہیں اور یادر کھنے کے نتیجہ میں ترقی بھی کر سکتی ہیں۔ایک نسل اگلی نسل پر جواثر چھوڑا کرتی ہے اس میں عموما یہ اصول کارفرما ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ کی کمزوریوں کو پکڑنے میں تیزی کرتے ہیں اور ان کی باتوں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں۔اگر باتیں عظیم کردار کی ہوں اور بیچ میں سے کمزوری ہوتو بچہ بیچ کی کمزوری کو پکڑے گا۔اس لئے یا درکھیں کہ بچوں کی تربیت کے لئے آپ کو اپنی تربیت ضروری کرنی ہوگی۔ان بچوں کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بچو! تم سچ بولا کر وہ تم نے (مربی) بننا ہے۔تم بد دیانتی نہ کیا کرو تم نے (مربی) بننا ہے۔تم غیبت نہ کیا کرو تم لڑا نہ کرو تم جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ تم وقف ہو اور یہ باتیں کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر ماں باپ ایسا لڑیں، جھگڑیں، پھر ایسی مغلظات بکیں ایک دوسرے کے خلاف ،ایسی بے عزتیاں کریں کہ وہ کہیں بچے کو تو ہم نے نصیحت کر دی اب ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔جوان کی اپنی زندگی ہے وہی بچے کی زندگی ہے۔جو فرضی زندگی انہوں نے بنائی ہوئی ہے کہ یہ کرو، بچے کوکوڑی کی بھی اس کی پروا نہیں۔ایسے ماں باپ جو جھوٹ بولتے ہیں وہ لاکھ بچوں کو کہیں کہ جب تم جھوٹ بولتے ہو تو بڑی تکلیف ہوتی ہے، تم خدا کے لئے سچ بولا کر وہ سچائی میں زندگی ہے۔بچہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بات لیکن اندر سے وہ سمجھتا ہے کہ ماں باپ جھوٹے ہیں اور وہ ضرور جھوٹ بولتا ہے۔اس لئے دونسلوں کے جوڑ کے وقت یہ اصول کار فرما ہوتا ہے اور اس کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں آپس میں خلا پیدا ہو جاتے ہیں۔اقتباسات از خطبه جمعه فرموده 8 ستمبر 1989ء) تو واقفین نو بچوں کے والدین کو اس سے اپنی اہمیت کا اندازہ بھی ہو گیا ہو گا کہ اپنی تربیت کی طرف کس طرح توجہ دینی چاہیے۔پھر جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے حضور کے الفاظ میں۔اپنے گھر کے ماحول کو ایسا پر سکون اور محبت بھرا بنا ئیں کہ بچے فارغ وقت گھر سے باہر گزارنے کے بجائے ماں باپ کی صحبت میں گزارنا پسند کریں۔ایک دوستانہ ماحول ہو۔بچے کھل کر ماں باپ سے سوال بھی کریں اور ادب کے دائرہ میں رہتے