مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 184
مشعل راه جلد پنجم 184 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ( مسنداحمد بن حنبل جلد 2 ص 254 بیروت ) کو دیکھو یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو اور شکر ادا کر سکو۔کھانے میں سادگی اپنا ئیں قناعت کے یہ معیار ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائے۔ہم آجکل عمدہ عمدہ کھانے کھانے کے بعد بھی یہ نخرے کر رہے ہوتے ہیں کہ اس میں نمک زیادہ ہے ،اس میں مرچ کم ہے یا اس میں مرچ زیادہ ہے، اس میں ہزاروں قسم کے نقص نکال رہے ہوتے ہیں۔بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس زمانے میں ہمیں ایسی خوراک میسر ہے۔آجکل یہ نہیں کہ صرف آدمی سر کہ ہی کھائے ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ان سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن شکر ادا کرتے ہوئے اور شکر کے جذبات پہلے سے زیادہ بڑھنے چاہئیں۔۔۔۔۔بل ایک فیشن ہے چھری کانٹے سے کھانے کا وہ تو خیر کوئی حرج نہیں کھا لینا چاہیے لیکن اس فیشن میں کیونکہ یہاں کے لوگ بائیں ہاتھ سے کانٹا پکڑ کر کھاتے ہیں اس لئے بائیں ہاتھ سے کھایا جاتا ہے۔اس بارے میں بھی احمدیوں کو جو ( دینی ) تعلیم ہے اس پر عمل کرنا چاہیے۔رعب دجال میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔واقفین زندگی کے لئے قیمتی نصائح۔۔۔اب میں واقفین کے لئے حضرت مسیح موعود کا اقتباس پڑھتا ہوں۔آج تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے حالات بہت بدل گئے ہیں اور واقفین زندگی کے لئے بھی جماعت وسائل کے لحاظ سے جس حد تک سہولتیں بہم پہنچا سکتی ہے پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔لیکن واقفین زندگی اور اب واقفین نو بھی بعض اس عمر کو پہنچ گئے ہیں اور جامعہ میں بھی ہیں کچھ اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں ان کو حضرت مسیح موعود کے یہ الفاظ ہمیشہ پیش نظر رکھنے چاہیں جو میں پڑھوں گا۔آپ فرماتے ہیں کہ :- ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر کچھ کر کے دکھانے والے ہوں ، علمیت کا زبانی دعویٰ کسی کام کا نہیں ہے۔ایسے ہوں کہ نخوت اور تکبر سے بکلی پاک ہوں اور ہماری صحبت میں رہ کر یا کم از کم ہماری کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرنے سے ان کی