مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 157

157 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس سے انسان کو غصہ آجاتا ہے۔لیکن آپ کبھی بھی ایسے فساد پیدا کرنے والوں اور مخالفین کی باتوں کی پرواہ نہ کریں۔بلکہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق اگر ایسی باتیں سنیں تو منہ پھیر کر گزر جایا کریں اور پرواہ نہ کیا کریں۔یہی اعلی اخلاق ہیں جو ایک احمدی میں ہونے چاہئیں۔یہی اعلی قسم کی باتیں ہیں جن کے کرنے کا ہمیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔یہی عبادت کے طریقے اور اعلیٰ اخلاق ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت میں دیکھنا چاہتے تھے اور انہی کو جاری کرنے کے لئے ، رائج کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے۔حضور انور نے فرمایا: اعلیٰ اخلاق کے ساتھ احمدیت کا ایک طرہ امتیاز انسانیت کی خدمت بھی ہے۔جس میں ایک سکیم کے تحت اس ملک میں کچھ ہسپتال کھولے گئے ہیں۔ڈسپنسریاں کھولی گئی ہیں اور مزید کھولی جائیں گی۔سکول بھی کھولے جائیں گے۔اسی خدمت کے جذبے کے تحت انشاء اللہ پارا کو میں ایک ہسپتال کا قیام بھی عمل میں آئے گا جس کی میں آج بنیا درکھ کر آیا ہوں۔حضورانور نے فرمایا: تعلیم حاصل کرنا ہمارے بچوں کا حق ہے۔اس کے لئے جتنی کوشش کی جائے کم ہے۔اس کے لئے میں والدین سے ماؤں سے، باپوں سے کہتا ہوں خواہ وہ پڑھے ہوئے ہوں یا ان پڑھ ہوں۔بچوں کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دیں۔آئندہ اس کے بغیر گزارہ نہیں۔بچے صرف اس لئے نہیں ہونے چاہئیں کہ وہ بڑے ہو کر ہاتھ بٹائیں گے ،Farming میں ہماری مددکر یں گے۔بلکہ بچوں کا جو حق ہے وہ ادا کریں کہ ان کی تربیت کریں اور تعلیم دلوائیں۔فرمایا: اپنی مالی مجبوری کی وجہ سے والدین بچوں کو پڑھائی سے نہ روکیں۔اگر مالی مجبوری کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تو مجھے بتائیں۔کوئی بچہ اس وجہ سے پڑھائی سے محروم نہیں رہے گا۔اس علاقہ میں جہاں نہ پانی نہ بجلی کی سہولت ہے اور نہ تعلیم کی ، میں چاہتا ہوں کہ اس علاقہ کے بچے اتنا پڑھ لکھ جائیں کہ ملک کے لیڈر بن سکیں۔اس علاقہ کے لوگوں میں یقیناً ایک فراست ہے اور دلوں میں ایک روشنی ہے جس کی وجہ سے ان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اس فراست کو مزید چپکائیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم حاصل کریں۔اس لئے میری آپ لوگوں سے یہی درخواست ہے کہ اپنے بچوں کو ضائع نہ کریں ، برباد نہ کریں۔اگلی نسلوں کی اگر حفاظت نہیں کریں گے تو خدا تعالیٰ کے حضور پوچھے جائیں گے کہ کیوں اپنی نسلوں کی حفاظت نہیں کی۔