مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 156

مشعل راه جلد پنجم 156 * ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے احباب جماعت Toui بینن سے مخاطب ہو کر فرمایا: - تمام روایتی بادشاہ ، معزز مہمان اور میرے پیارے بھائیو، بہنو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ لوگوں کو یہاں دیکھ کر اس وقت میرا دل خوشی کے جذبات سے لبریز ہے۔آپ لوگوں میں یقیناً نیکی اور شرافت ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اس زمانہ کے امام حضرت مسیح موعود کو ماننے کی تو فیق عطا فرمائی ہے۔اور آپ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کو جو سلام پہنچایا تھا وہ آپ ان تک پہنچا سکیں اور جو ( دین حق ) میں داخل ہوئے ہیں ان کو بھی خدا نے توفیق دی کہ حضرت اقدس مسیح موعود کی غلامی کے ذریعہ احمدیت یعنی حقیقی (دین) میں آجائیں۔پھر اللہ کا فضل ہی ہے کہ افریقہ کے ایک دور دراز ملک میں اور پھر شہروں سے ہٹ کر دور دراز جگہ کو خدا نے توفیق دی کہ ہزاروں میل دور جو ایک آواز اٹھی تھی کہ آؤ اور خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہو، آپ نے اُسے قبول کیا۔حضورانور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جن وانس کی پیدائش کا مقصد اپنی عبادت قرار دیا ہے۔اس لئے آپ لوگ جو احمدیت یعنی حقیقی (دین) میں داخل ہو چکے ہیں آپ کا فرض ہے کہ پانچوں نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔بچے ہوں یا بڑے ہوں، نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں سب کا کام ہے کہ اپنی (بیوت الذکر ) کو آباد کریں۔آپ کے کام، آپ کی مصروفیات یا آپ کے شغل ،آپ کی عبادت اور آپ کی نمازوں میں روک نہ بنیں ورنہ یہ بھی ایک قسم کا مخفی شرک ہے اور خدا کو سخت نا پسند ہے۔فرمایا: احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ لوگوں میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہونی چاہیے۔عبادت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق کا اظہار کرنا بھی ایک احمدی کے لئے بہت ضروری ہے۔کبھی بھی کسی قسم کے لڑائی جھگڑے، فتنہ وفساد میں شامل نہ ہوں بلکہ ہر ایک کو پتہ لگے کہ اگر کوئی شخص پہلے کسی قسم کے جھگڑوں میں ملوث تھا تو احمدیت قبول کرنے کے بعد مکمل تبدیل شدہ انسان ہو چکا ہے۔بعض دفعہ فساد پیدا کرنے والے لوگ کوئی