مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 138
مشعل راه جلد پنجم 138 * ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سیدنا حضرت خلیفہ المسح الامس ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔اگلی بات یہ ہے کہ تقویٰ کے مطابق زندگیوں کو ڈھالنا اور اُسے صرف اپنی ذات تک محدود رکھنا کافی نہیں بلکہ اپنی نسلوں میں بھی یہ اعلیٰ وصف پیدا کرنا ہے۔کیونکہ اگر ہم نے اپنی نسلوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق چلانے کی کوشش نہ کی تو ہمارا تقویٰ ہماری ذات تک ہی محدود رہ جائے گا۔اور ہمارے مرنے کے بعد ہماری نسلوں میں جاری نہیں رہ سکے گا۔اگر ہم نے اپنی نسلوں کی صحیح طرح تربیت نہ کی اور ان کو تقویٰ پر قائم نہ کیا تو پھر ہماری نسلیں بگڑ کر پہلے کی طرح ہو جائیں گی جن میں کوئی دین نہیں رہے گا۔اس لئے ہر احمدی کے لئے ضروری ہے کہ جو نور ہدایت اس نے حاصل کیا ہے وہ اپنی نسلوں میں بھی جاری کرے تا کہ ہر آنے والی نسل پہلے سے بڑھ کر تقویٰ پر چلنے والی ہو۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خاص طور پر ہم احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہے دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ۔نمازوں کی پابندی کرو، اور توبہ واستغفار میں مصروف رہو، نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دکھ نہ دو، راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا۔عورتوں کو بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ نماز کی پابندی کریں۔اور ان کو گلہ شکوہ اور غیبت سے روکو۔پاکبازی اور راستبازی ان کو سکھاؤ ( ظاہر ہے جب تک آپ خود اس پر عمل نہیں کریں گے سکھا بھی نہیں سکتے ) ہماری طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے اس پر عملدرآمد کرنا تمہارا کام ( ملفوظات جلد ششم صفحہ 146) اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں تقویٰ پر قائم کرے، ہم اپنی نسلوں کی بھی اس طرح تربیت کریں کہ وہ بھی تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والی ہوں۔اور کبھی ہم یا ہماری نسلیں اللہ تعالیٰ کے احکامات سے دور جانے والی نہ ہوں۔ہم سب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نصائح پر عمل کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے ہے۔