مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 102

102 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم اور ( بیت الذکر ) میں یا میٹنگ میں تو تکار بھی شروع ہو جائے یا گفتگو ایسے لہجے میں کی جائے جس سے کسی دوسرے عہد یدار کا یا کسی شخص کے بارے میں جس سے استخفاف کا پہلو نکلتا ہو کم نظر سے دیکھنے کا پہلو نکلتا ہو۔تو ہمارے عہد یداران اور کارکنان کو تو انتہائی وسعت حوصلہ کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کھلے دل سے تنقید بھی سنی چاہیے، برداشت بھی کرنی چاہیے اور پھر ادب کے دائرے میں رہ کر ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے اس کا خیال رکھ کر دلیل سے جواب دینا چاہیے، یہ نہیں کہ میں نے یہ کہہ دیا ہے اس پر عمل نہیں ہورہا تو تم یہ ہو ، تم وہ ہو۔یہ بڑا غلط طریق ہے۔عہدیدار کا مقام جماعت میں عہدیدار کا ہے خواہ وہ چھوٹا عہد یدار ہے یا بڑا عہد یدار ہے۔پھر قطع نظر اس کے کسی کی خدمت کو لمبا عرصہ گزر گیا ہے یا کسی کی خدمت کو تھوڑا عرصہ گزرا ہے۔اگر کم عمر والے سے یا عہدے میں اپنے سے کم درجے والے سے بھی ایسے رنگ میں کوئی گفتگو کرتا ہے جس سے سبکی کا پہلو نکلتا ہو تو گو دوسرا شخص اپنے وسعت حوصلہ کی وجہ سے یعنی جس سے تلخ کلامی کی گئی ہے وہ اپنی وسعت حوصلہ کی وجہ سے اطاعت کے جذبہ سے برداشت بھی کرلے ایسی بات لیکن اگر ایسے عہد یدار کا معاملہ جو دوسرے عہدیداران یا کارکنان کا احترام نہیں کرتے میرے سامنے آیا تو قطع نظر اس کے کہ کتنا سینئر ہے اس کے خلاف بہر حال کارروائی ہوگی تحقیق ہوگی۔اس لئے آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنا بھی سیکھیں اور مشورے لینا اور مشوروں میں ان کو اہمیت دینا اگر کوئی اچھا مشورہ ہے تو ضروری نہیں کہ چونکہ میں بڑا ہوں اس لئے میرا مشورہ ہی اچھا ہو سکتا ہے اور چھوٹے کا مشورہ اچھا نہیں ہوسکتا۔اس کو بہر حال وقعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اس کو کوئی وزن دینا چاہیے۔قضا کے بارہ میں پھر ہمارے ہاں قضا کا ایک نظام ہے۔مقامی سطح پر بھی اور مرکزی سطح پر بھی ، جماعتوں میں بھی۔تو قضا کے معاملات بھی ایسے ہیں جن میں ہر قاضی کو خالی الذہن ہو کر دعا کر کے پھر معاملہ کو شروع کرنا چاہیے۔کبھی کسی بھی فریق کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ قاضی نے دوسرے فریق کی بات زیادہ توجہ سے سن لی ہے یا فیصلے میں میرے نکات پوری طرح زیر غور نہیں لایا اور دوسرے کی طرف زیادہ توجہ رہی ہے۔گوجس کے خلاف فیصلہ ہو عموماً اس کو شکوہ تو ہوتا ہی ہے۔لیکن قاضی کا اپنا معاملہ پوری طرح صاف ہونا چاہیے۔حدیث میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی حاکم سوچ سمجھ کر پوری تحقیق کے بعد فیصلہ کرے، اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اسے دو ثواب ملیں گے اور اگر باوجود کوشش کے اس سے غلط فیصلہ ہو