مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 101

101 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم چلی جائیں گی اور یہی آپ کا گروہ ہے۔جتنا زیادہ اس کا تعلق جماعت سے اور عہدیداران سے مضبوط ہوگا اتنا ہی زیادہ نظام جماعت بھی آرام سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے چلے گا، اتنا زیادہ ہی ہم دنیا کو اپنا نمونہ دکھانے کے قابل ہوسکیں گے۔اتنی ہی زیادہ ہمیں نظام جماعت کی پختگی نظر آئے گی۔جتنا جتنا تعلق افراد جماعت اور عہدیداران میں ہوگا۔اور پھر خلیفہ وقت کی بھی تسلی ہوگی کہ جماعت ایسی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکی ہے جن سے بوقت ضرورت مجھے کارکنان اور عہدیداران میسر آ سکتے ہیں۔اگر کسی جگہ کچھ جماعتیں تو اعلیٰ معیار کی ہوں اور کچھ جماعتیں ابھی بہت پیچھے ہوں تو بہر حال یہ فکر کا مقام ہے۔تو عہد یداران کو اپنے علاقے میں ، اپنے ضلع میں یا اپنے ملک میں اس نہج پر جائزے لینے ہوں گے کہ کہیں کوئی کمی تو نظر نہیں آرہی۔اپنے کام کے طریق کا جائزہ لینا ہوگا۔اپنی عاملہ کی مکمل Involvment کا یا مکمل ان کاموں میں شمولیت کا جائزہ لینا ہوگا۔کہیں آپ نے عہدے صرف اس لئے تو نہیں رکھے ہوئے کہ عہدہ مل گیا ہے اور معذرت کرنا مناسب نہیں۔اس لئے عہدہ رکھی رکھو اور اس سے جس طرح بھی کام چلتا ہے چلائے جاؤ۔اس طرح تو جماعتی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہوگا۔اگر تو ایسی بات ہے تو یہ زیادہ معیوب بات ہے اور یہ زیادہ بڑا گناہ ہے بہ نسبت اس کے کہ عہدے سے معذرت کر دی جائے۔اس لئے ایسے عہد یدار تو اس طرح جماعت کے نظام کو، جماعت کے وقار کو نقصان پہنچانے والے عہد یدار ہیں۔عہدیداران دوسرے ماتحت عہد یداران یا کارکنان کا احترام کریں دوسرے یہ ذمہ داری ہے عہدیدار ان کی وہ عام لوگوں سے ہٹ کر اپنے دوسرے برابر کے عہد یداروں یا ما تحت عہد یداران یا کارکنان کا احترام ہے۔یہ کوئی دنیاوی عہدہ نہیں ہے۔جس طرح میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں کہ جو آپ کومل گیا ہے اور کوئی سمجھ بیٹھے کہ اب سب طاقتوں کا میں مالک بن گیا ہوں۔یہاں بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے امیر اپنی عاملہ کا احترام کریں، ان کی رائے کو وقعت دیں، اس پر غور کریں۔اسی طرح اگر کوئی ماتحت بھی رائے دیتا ہے تو اس کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھیں، کم نظر سے نہ دیکھیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ مشورہ کریں تو ہم آپ تو بہت معمولی چیز ہیں۔تو کسی کی رائے کو کبھی بھی تکبر کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔اپنا ایک وقار عہدیدار کا ہونا چاہیے اور یہ نہیں کہ غصے میں مغضوب الغضب ہو کر ایک تو رائے کو رد کر دیا