مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 203

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 98

مشعل راه جلد پنجم 98 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کہتی ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ اس لئے کرو، اس لئے کرو۔گویا وہ خالی حکم نہیں دیتا بلکہ اس حکم پر عمل کرنے کی انسانی قلوب میں رغبت بھی پیدا کر دیتا ہے۔تو سمجھانا اور سمجھا کر قوم کے افراد کو ترقی کے میدان میں اپنے ساتھ لئے جانا، یہ کامیابی کا ایک اہم گر ہے اور قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے۔چنانچہ سورہ لقمان میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے جو نصیحتیں بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ وَاقْصِدُ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِک (لقمان:۲۰) کہ تمہارے ساتھ چونکہ کمزور لوگ بھی ہوں گے اس لئے ایسی طرز پر چلنا کہ کمزور رہ نہ جائیں۔بے شک تم آگے بڑھنے کی کوشش کرو مگر اتنے تیز بھی نہ ہو جاؤ کہ کمزور طبائع بالکل رہ جائیں۔دوسرے جب بھی تم کوئی حکم دو محبت اور پیار اور سمجھا کر دو۔اس طرح نہ کہو کہ ” ہم یوں کہتے ہیں ( تو قرآن شریف کی تعلیم تو یہ ہے کہ محبت اور پیار سے حکم دو نہ کہ آرڈر ہو۔) بلکہ ایسے رنگ میں بات پیش کرو کہ لوگ اُسے سمجھ سکیں اور وہ کہیں کہ اس کو تسلیم کرنے میں تو ہمارا اپنا فائدہ ہے۔وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ کے یہی معنی ہیں۔گویا میانہ روی اور پر حکمت کلام یہ دو چیزیں مل کر قوم میں ترقی کی رُوح پیدا کیا کرتی ہیں اور پر حکمت کلام کا بہترین طریق یہ ہے کہ دوسروں میں ایسی روح پیدا کر دی جائے کہ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو سننے والے کہیں کہ یہی ہماری اپنی خواہش تھی۔یہی وقت ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کا قدم ترقی کی طرف سرعت کے ساتھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔“ (مشعل راه جلد اول صفحه 15) بے چینی پیدا کرنے والی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے پھر بعض اور بھی شکایات ہیں۔بعض جگہ سے شکایت آ جاتی ہے کہ ہم نے اپنے حالات کی وجہ سے امداد کی درخواست کی جو مرکز سے مقامی جماعت میں تحقیق کے لئے آئی تو صدر جماعت بڑے غصے میں آئے اور کہا کہ تم نے براہ راست درخواست کیوں دی؟ ہمارے ذریعے کیوں نہ بھجوائی۔لکھنے والے بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے تو ان سے معافی مانگ لی۔دوبارہ ان کے ذریعے سے درخواست بھجوائی گئی اور ایک لمبا عرصہ گزر گیا ہے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور پتہ بھی نہیں لگا۔جو ہماری ضرورت تھی اسی طرح قائم ہے۔ایک تو ڈانٹ ڈپٹ کی گئی، بے عزتی کر کے معافی منگوائی گئی، دوبارہ درخواست لکھوائی اور پھر کارروائی بھی نہیں کی۔اگر کسی عہدیدار نے یا صدر جماعت نے یہ سمجھ کر کہ یہ درخواست لکھنے والا یا درخواست دہندہ اس قابل نہیں ہے کہ اس