مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 10
مشعل راه جلد پنجم 10 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نہیں۔عبادت کسی موسمی کیفیت کا نام نہیں۔عبادت ایک مستقل زندگی کا رابطہ ہے۔عبادت کی مثال ایسی ہے جیسے ہم ہوا میں سانس لیتے ہیں۔کئی قسم کے زندہ رہنے کے لئے طریق ہیں جو انسان کو لازم کئے گئے ہیں۔مگر ہوا اور انسان کا جو رشتہ زندگی سے ہے وہ ایسا مستقل، دائمی، لازمی اور ہرلمحہ جاری رہنے والا رشتہ ہے کہ اور کسی چیز کا نہیں۔پس عبادت کو یہی رشتہ انسان کی روحانی زندگی سے ہے۔یہ عبادت ذکر الہی کی صورت میں ہمہ وقت جاری رہ سکتی ہے۔لیکن وہ نماز جو قرآن کریم نے ہمیں سکھائی اور سنت نے جسے ہمارے سامنے تفصیل سے پیش کیا یہ وہ کم از کم نماز ہے، کم سے کم ذکر الہی ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔اس لئے میں خصوصیت کے ساتھ آج پھر جماعت کو نماز کی اہمیت کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔“ یہ تھا حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا پیغام اور آپ کی توقعات۔اب آپ خود ہر ایک اپنا اندازہ لگا سکتا ہے اور اپنے آپ کو Access کر سکتا ہے کہ کس حد تک اس بات کو پورا کر رہے ہیں کہ ہم حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ للہ تعالی کے ہر کام اور ہر خواہش کو پورا کریں گے۔نماز بر وقت اور باجماعت ادا کریں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ نماز تو ( دین حق ) کا ایک بنیادی رکن ہے۔اللہ تعالیٰ نے صرف نماز پڑھنے اور جیسے تیسے اس کو پڑھنے کا نہیں کہا بلکہ پانچ وقت نماز پڑھنے کا کہا ہے اور باجماعت پڑھنے کیلئے کہا ہے۔آج کل بعض جگہوں پر کام کرنے کی وجہ سے یہ مسئلہ بعض لوگوں کو رہتا ہے کہ باجماعت نماز کس طرح پڑھیں۔ایک جگہ پر کام کر رہے ہیں اکیلے احمدی ہیں تو کہاں سے اور ڈھونڈیں جو جماعت ہو سکے۔تو ایسی صورت میں اپنی نماز پڑھ لیں لیکن یہ نہ ہو کہ ظہر عصر کی نمازیں جمع ہو رہی ہوں اور مغرب عشاء کی نمازیں جمع ہو رہی ہوں۔کام کے وقت میں اتنا وقفہ ملتا ہے کہ آپ ظہر کی نماز علیحدہ پڑھ سکیں اور عصر کی نماز علیحدہ پڑھیں۔اور جہاں چندلوگ اکھٹے ہو سکتے ہوں وہاں باجماعت نماز پڑھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔اور اس میں شرمانے والی کوئی بات نہیں ہے بلکہ آپ کا یہ عمل تو یقیناً دوسروں کو متاثر کرے گا اور وہ آپ کی طرف کھنچے آئیں گے اور دیکھیں گے کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں جو اس دور میں بھی ، اپنے کاموں کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہیں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر نماز قائم کرو گے۔