مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 119
119 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم ں۔تو ایسے بھی مرد ہیں۔یہ وہی ہیں جن کو نکے بیٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کے بیوی بچے بیچارے کما کر گھر کا خرچ چلا رہے ہوتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کو شرم بھی نہیں آ رہی ہوتی۔بہر حال یہ بیماری چاہے عورتوں میں ہو یا مردوں میں ، اس سے بچنا چاہیے۔نظام جماعت کو بھی چاہیے خدام، لجنہ وغیرہ کو اس بارہ میں فعال ہونا چاہیے کیونکہ یہ بیماری دیہاتی ، ان پڑھ اور فارغ عورتوں میں زیادہ ہے۔اس لئے لجنہ کو خاص طور پر دنیا میں ہر جگہ موثر لائحہ عمل اس کے لئے تجویز کرنا چاہیے۔پھر ان باتوں کے علاوہ جن کی نشاندہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے یہ بھی بیماری پیدا ہوگئی ہے کہ فارغ وقت میں اسی طرح لوگوں کے گھروں میں بے وقت چلی جاتی ہیں اور اگر کسی غریب نے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھا ہوا ہے کہ اس طرح اندر گھستی ہیں گھروں میں کہ ان کے کچن تک میں چلی جاتی ہیں۔کھانوں کی ٹوہ لگاتی ہیں کہ کیا پکا ہے کیا نہیں پکا اور پھر بجائے ہمدردی کے یا ان کی مدد کرنے کے، یا کم از کم ان کے لئے دعا کرنے کے مجلسوں میں باتیں کی جاتی ہیں کہ پیسے بچاتی ہے ، سالن کی جگہ چٹنی بنائی ہوئی ہے یا پھر اتنا تھوڑ اسالن ہے، یا فلاں تھا، یہ تھا، وہ تھا، کنجوس ہے یا جو بھی ہے وہ اپنا گھر چلا رہی ہے جس طرح بھی چلا رہی ہے تمہارا کیا کام ہے کہ کسی کے گھر کے اندر گھس کر اس کے عیب تلاش کرو۔اور پھر جب ایسے سفید پوش لوگوں کے گھروں میں بچیوں کے رشتے آتے ہیں تو پھر ایسی عورتیں Active ہو جاتی ہیں، بڑی فعال ہو جاتی ہیں اور جہاں سے کسی کا رشتہ یا پیغام آیا ہو وہاں پہنچ کر کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔وہاں سے تمہیں جہیز بھی نہیں مل سکتا۔اس لڑکی میں فلاں نقص ہے۔تو میں تمہیں بتاتی ہوں۔فلاں جگہ ایک اچھا رشتہ ہے، یہاں نہ کرو۔وہاں کرو۔گو جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔معمولی ہے، پھر بھی فکر کی بات ہے کیونکہ جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں وہ ایسا ہی ہے اور یہ معاشرہ بہر حال اثر انداز ہوتا ہے اور یہ باتیں بڑھنے کا خطرہ ہے۔پہلے اپنی اصلاح کریں آج بھی دیکھ لیں چغل خور یا دوسروں کی غیبت کرنے والے، بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والے خودان تمام برائیوں میں بلکہ ان سے بڑھ کر برائیوں میں مبتلا ہوتے ہیں جو وہ اپنے بھائی کے متعلق بیان کر رہے ہوتے ہیں۔اور پھر ان کی بے شرمی کی یہ بھی انتہاء ہے کہ ان کی برائیوں کا کھلے عام بعض لوگوں کو علم بھی ہوتا ہے پھر بھی ان کو شرم نہیں آرہی ہوتی کہ ہم پہلے اپنی اصلاح کریں۔بجائے اس کے کہ اپنے بھائی کی برائیاں