مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ اوّل) — Page 118
مشعل راه جلد پنجم 118 * ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی سید نا حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔بعض لوگ اس لئے تجسس کر رہے ہوتے ہیں۔مثلاً عمومی زندگی میں لیتے ہیں، دفتروں میں کام کرنے والے ، ساتھ کام کرنے والے اپنے ساتھی کے بارہ میں ، یا دوسری کام کی جگہ، کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے، اپنے ساتھیوں کے بارہ میں کہ اس کی کوئی کمزوری نظر آئے اور اس کمزوری کو پکڑیں اور افسروں تک پہنچائیں تا کہ ہم خود افسروں کی نظر میں ان کے خاص آدمی ٹھہریں ، ان کے منظور نظر ہو جائیں۔یا بعضوں کو یونہی بلا وجہ عادت ہوتی ہے، کسی سے بلاوجہ کا بیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کی برائیاں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔تو یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کا کبھی بھی جنت میں دخل نہیں ہوگا، ایسے لوگ کبھی بھی جنت میں نہیں جائیں گے۔تو کون عقلمند آدمی ہے جو ایک عارضی مزے کے لئے ، دنیاوی چیز کے لئے ، ذراسی باتوں کا مزا لینے کے لئے ، اپنی جنت کو ضائع کرتا بعض لوگ صرف باتوں کا مزا لینے کے لئے ایسی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں۔شروع میں صرف سن رہے ہوتے ہیں اور ہنسی ٹھٹھے کی باتوں پر ہنس رہے ہوتے ہیں۔اور پھر آہستہ آہستہ عادت پڑ جاتی ہے، ایسی باتوں کی۔اور خود بھی ایسی باتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔تو نو جوانوں کو خاص طور پر اس سے بچنا چاہیے۔شروع میں ہی بچپن سے ہی ، اطفال میں بھی اور خدام میں بھی یہ عادت ڈالیں کہ کسی کی برائی نہیں کرنی۔۔۔الحمد للہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہو کر بہت بڑی تعداد عورتوں کی اس بیماری سے پاک ہو گئی ہے۔اور اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرتی ہیں اور بعض تو دین کی خدمت کے معاملے میں اور اس جذبے میں مردوں سے بھی آگے ہیں لیکن ابھی بھی بعض دیہاتوں میں ، بعض شہروں میں بھی جہاں عورتیں نہ دین کی خدمت کر رہی ہیں نہ کوئی اور اُن کو کام ہے، اس غیبت کی بیماری میں مبتلا ہیں۔اسی طرح مردوں کی بھی شکایات آتی ہیں۔مجلسوں میں بیٹھ کر لوگوں کے متعلق بات کر رہے ہوتے