مشعل راہ جلد سوم — Page 76
76 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم عروج پکڑا اور مٹ گئیں اور یادگار کے طور پر اپنے کھنڈر چھوڑ گئیں۔ایک کے بعد دوسری لہر آئی ہے اور انگریز نے جب حکومت کی ہے تو یوں لگتا تھا جس طرح ہزاروں سال سے یہ قوم ہم پر مسلط ہے حالانکہ ان کے پہلے دن کا آنا اور آخری دن کا جانا حکومت کا عرصہ نہیں۔آغاز میں ان کا ادخال اور آخری انجام تین سو سال کے اندر اندر ختم ہو گیا۔اس لئے آٹھ سو سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہے۔لیکن پھر پین پر ایک ایسی ہیبت ناک رات طاری ہوئی ہے کہ سات ساڑھے سات سوسال تک اسلام کا نشان کلیۃ وہاں سے مٹا دیا گیا۔نومسلموں پر اتنے شدید مظالم توڑے گئے اور باہر سے آنے والوں پر کہ کچھ کو تو دھکیل کر سمندر سے باہر یہ کہ کر بھجوایا گیا کہ سمندر کے رستے جہاں سے تم لوگ آئے تھے وہاں واپس چلے جاؤ اور ان جہازوں کو عین وسط سمندر میں ڈبو دیا گیا اور ایک بھی ان میں سے بیچ کر اپنے وطن کو واپس نہیں جاسکا اور پھر جو پیچھے تھے ان کو گھیر کر جس طرح پرانے زمانہ میں بادشاہ شکار کیا کرتے تھے ہرنوں کا ، یا جس طرح بابر نے شکار کیا۔تزک بابری میں لکھا ہوا ہے۔اور بھی ایسی کتابوں میں پرانے زمانے کے شکار کا ذکر ملتا ہے کہ فوج گھیرا ڈال کر ایسے کونوں میں شکار کو اکٹھا کر دیا کرتی تھی جہاں سے آگے نکل بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا تھا۔پھر اچھے شکاری کی ضرورت نہیں ہے۔جس طرف بھی گولی چلتی تھی کوئی نہ کوئی شکار اس کے نتیجہ میں پھڑک رہا ہوتا تھا۔ویسا ہی حال مسلمانوں کا کیا گیا۔مختلف قصبوں سے گھیر گھیر کر ان پر ان کی زمین تنگ کرتے چلے گئے اور ہر جگہ جہاں ان کا قبضہ ہوا وہاں سے انتہائی مظالم کے ساتھ مسلمانوں کو نکال کر دوسرے قصبوں میں دھکیلا گیا یہاں تک کہ جب وہ گھیرا اکمل ہو گیا اور سمندر کی لہروں کے سوا اور کوئی چیز ان کی نجات کے طور پر نہ رہی اس وقت انہوں نے ان کے ساتھ یہ دھوکا کیا کہ جو لڑنے والے بیرونی سپاہی تھے ان سے تو یہ کہا ہم تمہیں جان کی امان دیتے ہیں۔یہ جہاز لو اور یہاں سے رخصت ہو جاؤ اور جو بقیہ ان کی قوموں کے نو مسلم لوگ تھے ان کو قتل و غارت کے ذریعہ بہیمانہ طریق پر اس طرح ختم کیا گیا کہ ایک بھی اسلام کا نام لینے والا نہیں رہا۔ہزار ہا مساجد، یا ان کے کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں۔ان میں سے کچھ گر جوں بلکہ بیشتر گرجوں میں تبدیل ہو گئیں۔اس کے باوجود آج تک مسلمانوں کی سینکڑوں مساجد پھیلی پڑی ہیں۔سینکڑوں قلعے پھیلے پڑے ہیں جو خالی اور ویران ہیں اور کھنڈروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔غرناطہ کے قلعہ کی سیر کی جائے جس کا نام الحمراء ہے تو ایک ایک قدم پر دکھ ہوتا ہے۔اس طرح وہ پرانی یادوں سے بھرا پڑا ہے کہ وحشت ہونے لگتی ہے اسے دیکھ کر۔ایک طرف اس میں بے پناہ حسن ہے جو نظر کو کھینچتا ہے اور دل کو جذب کرتا ہے۔دوسری طرف اتنا دکھ اور درد ہے کہ اس سے انسان کا انگ انگ دکھنے