مشعل راہ جلد سوم — Page 75
مشعل راه جلد سوم 75 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی رہی ہوں۔اسی کا نام تو بارش ہے۔صرف اس پہلو سے آپ دیکھیں تو کروڑہا یورپ کے بسنے والوں نے اس آنکھ سے ( دین حق ) کو دیکھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کی آنکھ تھی۔اس آنکھ سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن کا نظارہ کیا جو عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد کی آنکھ تھی اور اس حسن کو محسوس کیا اور اس کی تپش اپنے سینے میں محسوس کی۔یہی تو فضل ہیں اللہ تعالیٰ کے جن پر آپ کروڑوں اربوں روپے بھی خرچ کرتے تو اپنی قوت بازو سے اس کو حاصل نہیں کر سکتے تھے۔دنیا میں ایسے ملک بھی ہیں جن میں جماعت ہزار ہا بلکہ لاکھوں روپیہ خرچ کر کے بطور اشتہار ہی یہ بات شائع کروانا چاہتی تھی کہ آپ ہمدردی میں نہ سہی پیسے لیجئے اور اشتہار کی قیمت سے دس گنا زیادہ پیسے لیجئے لیکن شائع تو کر دیں کہ سپین میں خدا کا ایک گھر بنایا جا رہا ہے سات آٹھ سوسال کے توقف کے بعد لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار نہ ہوئے۔اور کہاں یہ کہ بعض ایسے اخبارات جن کے چھپنے کی اتنی تعداد ہے کہ بعض بڑے بڑے پسماندہ ملکوں کے سارے اخباروں سے زیادہ اس ایک اخبار کی اشاعت ہوتی ہے۔انہوں نے تمام اہل یورپ میں بڑی فراخدلی کے ساتھ ( دین حق) کی ( دعوۃ ) کی ہے بلکہ بعض اخبار تو ایسے تھے جو ساری دنیا میں جاتے ہیں۔صرف یورپ میں نہیں بلکہ امریکہ میں بھی پڑھے جاتے ہیں اور بہت سی ایسی چیزیں تھیں جس کے نتیجہ میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کے فضل بارش کے قطروں کی طرح بلکہ موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح برسے ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔سپین کا شاندار ماضی اب میں سپین کی طرف آتا ہوں۔سپین وہ ملک ہے جہاں آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی۔آٹھ سو سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔اور ایسی شاندار حکومت کی کہ اس حکومت کے نتیجہ میں تمام سپین تمام مغرب کے لئے روشنی کا مینار بن گیا۔عدل و انصاف کو قائم کیا۔انسانی حقوق کو ادا کیا۔مذاہب کے درمیان عدل اور توازن کو قائم کیا۔اور ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ تلوار کے زور سے کسی کو مسلمان بنایا ہو۔اخلاق حسنہ کے نتیجہ میں اور مواعظ حسنہ کے نتیجہ میں وہاں قبائل کے قبائل مسلمان ہو گئے۔آٹھ سو سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں۔اس عرصہ میں تو قوموں کی تاریخ بنتی بھی ہے، بگڑتی بھی ہے۔پھر بنتی ہے اور پھر بگڑ جایا کرتی ہے۔آپ ہندوستان کی گزشتہ آٹھ سو سال کی تاریخ کا مطالعہ کریں، کتنی حکومتیں آئیں۔انہوں نے عروج پکڑا۔پھر وہ مٹ گئیں۔پھر ان کی جگہ دوسری آئیں۔پھر انہوں نے