مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 61

61 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم مقابل پر ایک معمولی سا ملک ہے اور کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا۔اس کو کبھی دائیں سے اور کبھی بائیں سے مدد لینا پڑتی ہے۔اس میں ایک چھوٹے سے قصبہ میں آپ ایک چھوٹے سے انسان ہیں۔ایک چھوٹے سے باپ کے بیٹے ہیں۔ایک چھوٹی سی ماں کے بیٹے ہیں اور دنیا کے نقشہ پر آپ کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔لیکن آپ پر آسمان کا خدا رحم کر کے اتر رہا ہے۔یہ ہے مقام جس پر انسان کی فطرت کو یہ گیت گا نا چاہیے کہ کیٹری کے گھر نرائن آیا ، ہمارا آسمانی آقا ہم پر نازل ہو رہا ہے۔اس لئے جب وہ دعا قبول کرے تو اس کے حضور جھک جانا چاہیے۔نہ قبول کرے تو حق نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ سوچنا چاہیے کہ ہم حقدار کہاں کہ خدا ہم سے کلام کرے۔ہم حقدار کہاں کہ وہ ہماری دعاؤں کو سنے محض اس کا رحم اور کرم ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو سنتا اور قبول فرماتا ہے۔تب آپ کے اندر کچی وفا پیدا ہوگی۔تب آپ کے اندر سچی محبت پیدا ہوگی۔تب خدا آپ کے دل میں اترے گا۔ایازی کیفیت یہ وہ جذبہ ہے جس کے نتیجہ میں ایک اور ایازی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کو بھی میں ایاز ہی کی کہانی میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ بچے کہانیوں کی زبان میں اس کیفیت کو زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکیں۔وہ قصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ بادشاہ کے دربار میں ایک بہت ہی شاندار گر ما پیش کیا گیا۔آپ جانتے ہیں گر ما ایک پھل ہے۔اس کی قاشیں کاٹ کر کھایا جاتا ہے۔بہت میٹھا ہوتا ہے۔لیکن بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر خشک سالی ہو یا کوئی بیماری پڑ جائے تو بعض گرمے انتہائی کڑوے ہو جاتے ہیں۔اتنے کہ بعض دفعہ نا قابل برداشت ہو جاتے ہیں۔بہر حال گرما تھا۔کسی نے بڑی محبت سے بادشاہ کو پیش کیا۔اس نے قاش کائی اور پہلی قاش ایاز کو دے دی۔ایاز نے اس مزے مزے سے وہ کھائی کہ درباری بھی بڑی بیقراری سے انتظار کرنے لگے کہ ہماری بھی باری آئے تو ہم بھی کھائیں۔ان کے منہ میں بھی پانی آنے لگ گیا۔بادشاہ بیٹھا دیکھتارہا اور مزے اٹھاتا رہا ایاز کے لطف کے۔اس کے بعد اس نے بڑے تحمل سے دوسری قاش کائی اور اپنے وزیراعلیٰ کو دی۔اس نے ایک لقمہ ہی کھایا تھا کہ وہیں تھوک دیا۔اس سے برداشت نہیں ہوا۔اس کے چہرے کا رنگ بگڑ گیا۔اس قدر بُری حالت ہوئی۔بادشاہ نے کہا تمہیں کیا ہو گیا ہے۔اس نے کہا بادشاہ سلامت ! یہ اتنا کڑوا۔اتنا بد مزہ ہے کہ گستاخی ہوگئی مجھ سے۔یہ بھی نہیں ہوسکا کہ باہر جا کر تھوکوں۔