مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 628

مشعل راه جلد سوم 628 اطاعت کی ضرورت ہے مگر سچی اطاعت کا ہونا ایک مشکل امر ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اطاعت میں اپنی ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔دل کی تمناؤں کو اور دل کی خواہش کو ذبح کرنا پڑتا ہے جو ایک بہت مشکل امر ہے۔”بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔اور بڑے بڑے تو حید کے دعوے کرنے والوں کے سینوں کے اندر بت رکھے ہوئے ہیں اور وہ بت کیا ہے، ہوائے نفس۔دل کی خواہش کو اللہ کے احکام پر جان بوجھ کر ترجیح دینا یہ تو سراسر واضح شرک ہے اور اطاعت نہ کرنے پر شرم محسوس کرنا اور حیاء محسوس کرنا اور استغفار میں مبتلا ہونا اور رونا اور گریہ وزاری اختیار کرنا یہ واضح شرک نہیں ہے۔یہ نفس انسانی کی کمزوریاں ہیں جو اگر نظرانداز کر دی جائیں تو رفتہ رفتہ شرک میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بات بڑے غور سے سنیں۔فرماتے ہیں:۔” ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بُت بن سکتی ہے۔دیکھنے میں بڑے تو حید پرست ہو نگے مگر ان کے دلوں میں بہت آباد ہیں۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں فنا شدہ قوم تھی۔فنا شدہ کا مطلب ہے دل سے ہوائے نفس کو مٹا دیا تھا۔” یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم ، قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملتیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔اس لئے معتمد ہو یا معتمد کو حکم دینے والا ہو دونوں صورتوں میں فرمانبرداری دونوں پر لازم ہے۔ایک پر اس پہلو سے لازم ہے کہ جس بات پر وہ مامور ہے اسی کا حکم دے اس سے زائد نہ دے اور وقت پر جو فیصلہ کرنا ہوا اپنی سوچ کے مطابق کرے مگر کوشش یہی ہو کہ جو عمومی ہدایتیں ہیں ان کے تابع رہنا ہے۔معتمد کو یہ اختیار نہیں کہ وقت پر کوئی حکم بھی دے سکے۔اُس نے صرف اسی کی اطاعت کرنی ہے جو اس کو کہہ دیا گیا اس کے دائرے میں محدود ہو چکا ہے اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا ، اسے کم نہیں کر سکتا۔جیسا کہ فرشتوں کے