مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 629

629 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم متعلق اللہ فرماتا ہے نہ وہ زیادہ کر سکتے ہیں نہ وہ کم کر سکتے ہیں بعینہ وہی کرنا ہوگا جو ان کو کہا گیا ہے۔کمی اور زیادہ کے مواقع دوسرے اولوالامر کے لئے ضرور پیدا ہوتے رہتے ہیں کیونکہ صورت حال بدلنے کے نتیجے میں موقع پر ایک صاحب امر کی ضرورت پڑتی ہے۔وہ موقع پر جو فیصلہ کرے گا اس کا وہ ذمہ دار ہوگا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس بات کی بہت احتیاط کرتے تھے اور کبھی موقع کا فیصلہ کرنا پڑے اور یا د نہ ہو کہ رسول اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں کیا چاہتے ہیں اور کیا فرما چکے ہیں تو پھر اپنی فطرت کے اندر جو اطاعت نے ایک یگانگت گھول دی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔وہ یگانگت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ تھی جو اطاعت کے نتیجے میں ان کی فطرت میں گھولی گئی تھی۔جب اس کے حوالے سے فیصلہ کرتے تھے ضرور صحیح نکلتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہو کر جب پیش کرتے تھے تو بعض صحابہ کہتے ہیں ساری عمر اتنی خوشی نہیں ہوتی تھی جتنی اس وقت ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہی میرا فیصلہ تھا، میں ہوتا تو یہی کرتا۔اندازہ کریں اس یگانگت سے کیا سرور حاصل ہوتا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔اطاعت سے نور اور روشنی کا یہ مطلب ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔وہ فنا شدہ قوم تھی۔یعنی اپنے دل کی تمام نفسانی خواہشات کو مٹا بیٹھے تھے۔فرماتے ہیں:۔کوئی قوم بھی اس میں یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔ادبار اور تنزل کے نشانات یعنی اس وقت تک وہ قوم نہیں کہلا سکتی۔پھر اگلا فقرہ ہے۔اگر اختلاف رائے اور پھوٹ رہے تو پھر سمجھ لو کہ یہ ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں“۔اللہ جماعت کو اد بار اور تنزل کے نشانات سے کلینتہ پاک رکھے لیکن یاد رکھیں جب آپ کی اختلاف رائے کے نتیجے میں پھوٹ پیدا ہو جائے اور کچھ ٹولیاں کچھ کرنا چا ہیں، کچھ ٹولیاں کچھ کرنا چاہیں تو یہ پھر تنزل