مشعل راہ جلد سوم — Page 610
610 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکینی ، آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تبھی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔“ ( آج آپ کو دنیا میں بے شمار نمازی ملیں گے۔مسلمانوں میں کثرت سے نماز کا رجحان جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔اگر دل کی خوشی سے نہیں پڑھتے تو ڈنڈے کے جبر سے پڑھتے ہیں مگر مسجدوں میں آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے۔کیونکہ یہ جو اسلام کے نام پر دنیا کو فتح کرنے کا نعرہ لگایا جارہا ہے اس کے نتیجے میں ایک ظاہری اسلام ہے جو پرورش پا رہا ہے اور مسجد میں ایسے نمازیوں سے بھر رہی ہیں جن پر اس صورت حال کا اطلاق ہوتا ہے ) کہ مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکینی ، آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تبھی اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔پس یہ سارے نمازی ایک طرف اور اسلام کے زوال کی حالت دوسری طرف اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نماز سچی پڑھتے اور اسلام کی حالت نہ بدلتی۔اسلامی اخلاق اسلامی اقدار اور اسلام بنی نوع انسان کے لئے جو کچھ بھی بھلائی کا پیغام لایا ہے وہ ساری باتیں تو ہو گئیں۔ان میں سے کچھ بھی کہیں باقی دکھائی نہیں دیتا۔صرف نمازی دکھائی دیتے ہیں اور اسلام کے نام پر انتہائی ظلم کرنے والے دکھائی دیتے ہیں۔اسلام کے نام پر سخت جبر کی تعلیم دینے والے دکھائی دیتے ہیں۔پس یہ تنزل ہمیں بتا رہا ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تجزیہ فرمایا تھا کہ نماز حقیقی نماز نہیں رہی جو نماز پڑھتے ہیں وہ ایک فرضی نماز ہے)۔فرمایا ” وہ زمانہ جس میں نماز سنوار کر پڑھی جاتی تھی غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے۔“ (اسلام نے ایسی یلغار کی تھی دنیا پر کہ سیاسی لحاظ سے بھی دنیا زیر پا ہوگئی تھی۔لیکن اب جو نماز پڑھ رہے ہیں اس کے نتیجے میں ساری دنیا ان پر غالب ہے۔کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔فرمایا یہ فقرہ بڑا توجہ سے سنے والا ہے ) ” جب سے اسے ترک کیا خود متروک ہو گئے۔“ جب نماز چھوڑی تو خود چھوڑے گئے۔بہت ہی پیارا کلام ہے۔ترک کرنے والا متروک ہو گیا۔خدا نے انہیں چھوڑ دیا ان کا کچھ بھی باقی نہ رہا۔درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں اور خدا نے اس امر کوحل اور آسان کیا ہوا کر دیا ہوتا ہے۔یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو ماضی کا تجربہ نہیں آج بھی زندہ ہے اور اس کی طرف میں آپ کو بلاتا ہوں۔ایسی نمازیں پڑھیں کہ جو جو خواہش دل سے اٹھتی ہے وہ بسا اوقات سلام پھیرنے سے پہلے ہی پوری ہو چکی ہو اور میں ایسے احمدی مخلص احباب کو جانتا ہوں جن کی