مشعل راہ جلد سوم — Page 578
578 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم طرح دیکھتا ہے اور کیا سمجھ رہا ہے۔یہ احساس خود اعتمادی گھر میں بچپن میں پیدا کرنا ضروری ہے۔اگر آپ نے نہ کیا تو پھر بارہ، چودہ، پندرہ سال کے بعد بالکل آپ کا بس نہیں رہے گا۔آپ کو اختیار نہیں رہے گا۔پھر دنیا کی لذتیں ان کو اس عمر میں اپنی طرف اس طرح کھینچیں گی کہ ان کے نزدیک خود اعتمادی کا کوئی سوال باقی نہیں رہے گا۔پس بہت سے ایسے خاندان میں نے دیکھے ہیں جن کے بچے ماں باپ سے ڈرے ہوئے تھے اور نظر آرہا تھا کہ ماں باپ بڑے جبار ہیں اور ان کی مجال نہیں کہ وہ ان سے ہٹ کر چلیں اور مجھے ان کے متعلق تشویش پیدا ہوتی تھی ، رحم آتا تھا کہ کیسی تربیت ہے کہ جب بھی یہ آزاد ہوں گے ان ماں باپ کی کوڑی کی بات بھی نہیں سنیں گے۔پس خاص طور پر Afro-Americans بچوں کے لئے میں یہ نصیحت کر رہا ہوں کیونکہ میں نے دیکھا ہے Afro-Americans ماں باپ جو نیک اور مخلص ہیں وہ اس طرح کرخت بھی ہیں اور اپنے گھر میں اپنی سلطنت قائم کرنے میں بڑے جابر ہیں۔ان کے بچوں کو میں نے دیکھا ہے بہت سر جھکا کر چل رہے ہیں، مجال ہے جو ادھر سے ادھر ہو جائیں۔کئی دفعہ غلطی سے انہوں نے بایاں ہاتھ کر دیا تو سختی سے ڈانٹ پڑی۔خبردار! دایاں ہاتھ آگے کر و۔جزاکم اللہ اس طرح کہو ، فلاں بات یوں کہو اور ماں باپ سمجھ رہے ہیں کہ دیکھو ہم نے بچوں کی کیسی اچھی تربیت کی ہے۔ان کو یہ پتہ نہیں کہ کل بچے مڑ کر دیکھیں گے اور کہیں گے۔اب جو کرنا ہے کر لو، اب ہم تم سے نکل کے آزاد ہو چکے ہیں۔تو نیکی کی لذت حاصل کرنا اور لذت حاصل کرنا سکھا نا یہ ماں باپ کا کام ہے۔نیکی سے وابستگی لذت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔کوئی انسان سر پھرا تو نہیں ہے کہ بے وجہ لذتوں سے منہ موڑ لے جب تک بہتر اور اعلیٰ لذتیں نصیب نہ ہوں۔اس لئے خدا تعالیٰ کا یہ ایک دائمی قانون ہے جس کو آپ کو پیش نظر رکھنا ہے۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المؤمنون: 97) سارے قرآن میں یہ مضمون بیان ہوا ہے۔برائی کے خلاف جہاد کی اجازت نہیں جب تک کہ اس سے بہتر چیز آپ پیش نہیں کر سکتے۔پس احسن کے ذریعے بدی کو دور کریں۔اچھی چیز پاس ہے تو وہ دیں تا کہ بدی اس سے نکل کر دور بھاگے اور اچھی چیز میں خوبی یہ ہوا کرتی ہے یعنی اچھی چیز کا اچھا دیکھنا ضروری ہے، یہاں جا کر فرق پڑ جاتا ہے۔جب آپ کے بچے اچھی چیز کو اچھا نہیں دیکھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپ سے ڈرے ہوئے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ماں باپ کا خیال ہے کہ اچھی ہے۔جب تک ہم ان کے قبضہ قدرت میں ہیں ہم بھی اچھا کہیں گے اس کو اور جب نکلیں گے تو پھر جو ہماری مرضی کریں گے۔لیکن اچھے کو اچھا دکھانے کے لئے وہ تجربے