مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 577

مشعل راه جلد سوم 577 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ماں باپ نے مجھے بتایا، میں نے ان کو بلایا اور پیار سے سمجھایا۔میں نے کہا تم یہ دیکھو کہ تم پردہ کس کے لئے کر رہی ہو؟ اللہ کے لئے یا ماں باپ کے لئے یا اور کوئی پیش نظر بات ہے۔اگر تمہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے یہ قربانی چاہتا ہے کہ تم اپنے حسن کو ، اپنی دل آویزی کو چھپاؤ اور معاشرے کی بے راہرو آنکھوں کو اجازت نہ دو کہ وہ تم پرحملہ کریں یا حرص کے ساتھ تمہیں دیکھیں تو پھر یہ ایک اچھی بات ہے۔اگر تم اچھی بات سے آج شرما گئیں تو ہمیشہ ساری اچھی باتوں سے شرماتی رہو گی۔دل میں یہ خیال کرو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں سوسائٹی کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں۔کیونکہ وہ بد ہے اور تم اچھی ہو۔تم نے ان کو سبق دینا ہے۔چنانچہ جب ان باتوں کو خود اچھی طرح وہ سمجھ گئیں تو پھر میں نے ان کو دیکھا پر دے میں ملبوس اور میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک کے سامان ہوئے اور ساری عمر کے لئے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان ہوئے۔اتنا لطف آتا تھا ان کو دیکھ کر پھر اور وہ بڑے مزے سے میری طرف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یوں ہلکا سا، یہ بتا جاتی تھیں کہ ہاں ہم خوش ہیں۔ہمیں اب پتا چلا ہے کہ ہم کیا چیز ہیں۔پس نیکی پر خود اعتمادی یہ بہت ضروری ہے اور اس خود اعتمادی کے فقدان کے نتیجے میں نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔پس جن بچوں کو آپ نے سوسائٹی میں بھیجنا ہے ان کو بتائیں کہ تمہاری عزت اور تمہاری اعلیٰ اقدار سچائی سے وابستہ ہیں۔تمہاری عزت اور اعلیٰ اقدار گندگیوں سے منہ موڑنے سے وابستہ ہیں۔سوسائٹی ایک طرف منہ کر کے جاتی ہے تم دوسری طرف منہ کر کے چلو اور اس میں تمہارا سر فخر سے اٹھنا چاہیے، ذلت کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔اگر نیکی کے ساتھ ذلت کا احساس ہوتو یہ نیکی کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتی۔پس اکثر خرابی یہاں بچوں میں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ ان کو گھر میں نیکی میں عزت کا احساس نہیں بتایا جا تا۔یہ نہیں بتایا جا تا کہ تم میں تو اس سے خود اعتمادی پیدا ہونی چاہیے۔تم اونچے ہو، گھٹیا لوگوں سے شرماتے ہو، یہ تم کیا چیز ہو۔کیا کبھی جانوروں سے بھی تم شرمائے ہو کہ جانور ہر قسم کی بے ہودہ حرکتیں کر رہے ہیں اور تم انسانوں کی طرح چل رہے ہو۔تمہیں جانوروں پر رحم تو آسکتا ہے مگر جانوروں سے شرما نہیں سکتے۔پس انسانی ماحول میں بھی جانور بس رہے ہیں اور جانور جو مادر پدر آزاد ہیں۔جانوروں سے بھی بے حیائیوں میں آگے بڑھ گئے ہیں۔ان کے سامنے تمہیں سراٹھا کر چلنا ہے۔یہ وہ تکبر ہے جس میں حقیقت میں بنیادی طور پر انکساری ہے کیونکہ خدا کی خاطر آپ اپنا سر اٹھا ر ہے ہیں اور ایسے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے کہ بعض دفعہ نیکیوں کا اثر ڈالنے کے لئے سر اٹھانا ہی نیکی بن جایا کرتا ہے۔اپنی اعلیٰ اقدار پر سر اٹھا کر چلیں۔کوڑی کی بھی پرواہ نہ کریں کہ کوئی آپ کو کس