مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 542

542 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہوئے احمدیت انگلی صدی میں سے گذرے تو یہ ایک بہت ہی بڑا اور عظیم الشان نشان ہوگا۔توحید کے مختلف پہلو ہیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں کئی قسم کی نصیحتیں کرتا چلا آرہا ہوں اور اس اجتماع پر بھی افتتاحی خطبہ میں تو حید ہی سے متعلق نصیحت کی تھی اور اب بھی تو حید ہی کے مضمون پر عملی پہلو سے اور روشنی ڈالوں گا۔زندگی کی ہر دلچسپی میں سچائی کو داخل کریں آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ اجتماع پر میں نے سچائی کو یا سچائی کے جہاد کو اس سال کا نشان بنانے کی آپ کو ہدایت کی تھی کہ جہاد کریں کہ سب احمدی سچائی پر قائم ہو جائیں اور سچائی کا قیام اور توحید کا قیام دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔کیونکہ توحید باری تعالیٰ کا اعلیٰ اور گہرا مضمون یہ ہے کہ اُس کے سوا اور کوئی نہیں اور سچائی بھی ایک ایسی چیز ہے کہ اُس کے سوا اور کچھ نہیں ہوا کرتا۔سچائی ایک ہوا کرتی ہے۔جھوٹ بہت ہوا کرتے ہیں۔جھوٹ سینکڑوں ہزاروں بھی ہو جاتے ہیں مگر سچائی صرف ایک چیز ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ کا نام الحق ہے۔یعنی وہی سچ ہے۔پس اس پہلو سے جو تحریک میں نے شروع کی تھی وہ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی تک صرف جماعت احمد یہ جرمنی کی بات نہیں کل دنیا میں سچائی جھوٹ سے شکست کھاتی چلی آرہی ہے اور تمام دنیا کا یہ حال ہے کہ اب تقریباً ہر ملک میں ہر جگہ جھوٹ کی عبادت شروع ہو چکی ہے۔جھوٹ ہی قوموں کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے۔جھوٹ ہی قوموں کی سیاست ہو چکا ہے۔جھوٹ ہی قوموں کا معاشرہ بن گیا ہے۔اور وہ قو میں جو عام روز مرہ لین دین کے معاملات میں سچی ہیں وہ بھی فی الحقیقت اپنی زندگی کے مقاصد کے لحاظ سے جھوٹ کی عبادت کرتی ہیں۔یعنی ایسے عیش وعشرت کی اور ایسے عیش وعشرت کے سامانوں کی عبادت کرتی ہیں جو جھوٹ کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔پس جھوٹ نے جو یورش کی ہے بہت بڑا ز بر دست حملہ ہے اور توحید پر یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔پس جب ہم تو حید کے حق میں نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہیں تو محض منہ کے یاسینوں کے جوش سے مضمون کا حق ادا نہیں ہو جاتا۔بہت سے ایسے ہیں جو بڑے زور کے ساتھ نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے آوازے بلند کرتے ہیں لیکن جب اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں تو روز مرہ کی زندگی میں جھوٹ کی ہی ملاوٹ ہوتی ہے اور توحید میں ملاوٹ کوئی نہیں ہوا کرتی ایک ہی چیز ہے۔آنحضرت کو اس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو اعلان کر دے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ کہ مجھ میں تو تکلف نام کی بھی کوئی چیز نہیں ہے۔جیسا میں ہوں ، جو بھی ہوں، تمہارے سامنے ظاہر و باہر ہوں۔میرا ظاہر اور میرا باطن ایک ہی ہے۔پس توحید میں جو سب سے اعلیٰ مضمون ہے وہ دوئی کا اور تفرقہ کامٹ