مشعل راہ جلد سوم — Page 543
مشعل راه جلد سوم 543 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی جانا ہے۔جب تفرقے مٹ جائیں تو تو حید قائم ہوتی ہے اور کوئی طاقت دنیا میں تو حید کو قائم کر ہی نہیں سکتی جب تک کہ اُس کی ذات میں سے تفرقہ نہ مٹ جائے۔اگر ایک شخص ہے تو اس کا دوغلہ پن ختم ہونا چاہیے اگر قوم ہے تو قوم کا دوغلہ پن ختم ہونا چاہیے۔پھر ہر مضمون میں زندگی کی ہر دلچسپی میں سچائی کو اس طرح داخل ہونا چاہیے کہ کوئی پہلو بھی زندگی کا دوغلے پن والا نہ رہے۔یعنی ہر زندگی کا پہلو دوئی سے پاک ہو۔دُنیا میں توحید کا علم کیسے بلند کرنا ہے پس اس پہلو سے میں آج پھر آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ ہم نے دنیا میں توحید کا علم بلند کرنا ہے اور توحید کا علکم بلند کرنا نعروں سے نہیں ہوگا۔توحید کا علم بلند کرنا محض مجالس میں اونچے اونچے اعلانات اور تقریروں سے نہیں ہوگا۔تو حید کا علم بلند کرنا ہے تو پہلے اپنے سینوں میں توحید کا علم بلند کریں۔اپنی ذات میں توحید کا علم بلند کریں۔اپنی ذات کو سیدھا اور صاف کرلیں۔ہر قسم کی دوئی سے توبہ کر لیں اور ایک جان ہو جائیں۔جب آپ اپنی ذات میں ایک وجود بنتے ہیں تو پھر آپ اس بات کے اہل بنتے ہیں کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو توحید کے اعلان کے لئے چنا۔حالانکہ تو حید کے بہت سے علمبر دار دنیا میں موجود تھے۔بہت تھے جو کہتے تھے کہ ہم موحد ہیں مگر سب بھری دنیا میں صرف حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو حید کے اعلان کے لئے اللہ تعالیٰ کا چن لینا یہ اس بات کی قطعی اور واضح علامت ہے کہ خدا کے نزدیک آپ کا وجود ایک ایسا وجود تھا جس میں دوئی کا کوئی شائبہ تک باقی نہیں رہا تھا۔جو ظا ہر تھا وہ اندر بھی تھا۔جو شاہد تھا وہی باطن میں تھا۔کوئی فرق بھی آپ کی ذات میں دوئی کا باقی نہیں تھا۔جس سے جس طرح ملتے تھے وہی دل کی بات ہوتی تھی جو آپ کے چہرے سے ظاہر ہوا کرتی تھی۔اب یہ روز مرہ کا ایک عام دستور ہے ہر انسان دوسرے انسانوں سے ملتا ہی تو ہے۔آتے جاتے، گھر میں بھی ملتا ہے، باہر بھی ملتا ہے لیکن اگر صرف اس پہلو سے آپ اپنی ذات پر غور کر کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ پوری طرح حق پر قائم نہیں ہیں۔ملتے وقت ہزار تصنع اختیار کئے جاتے ہیں۔کسی سے نفرت بھی ہو تو ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ بڑی محبت ہے۔اب نفرت ہو تو نفرت کا ظاہر کرنا یہ تو حید نہیں ہے۔نفرت ہو تو نفرت پر قابو پا کر اسے ہمدردی میں تبدیل کرنا توحید ہے لیکن نفرت کو باقی رکھیں اور چہرے سے محبت ظاہر کریں یہ دوئی ہے۔یہ توحید کے منافی ہے۔پس یہ بہت ہی باریک پہلو ہیں توحید کے جن پر اپنی ذات میں آپ کو نظر کرتے ہوئے نگاہ رکھنی ہوگی کہ آیا ہم میں یہ پہلو موجود ہیں کہ نہیں۔یہی وہ باریک پہلو