مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 507 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 507

507 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم قوم کے اس اعتماد کو ٹھوکر لگا سکتے ہیں جو سیاسی رہنما منتخب کرتے وقت قوم ان منتخبین پر رکھتی ہے۔لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے ایسے واقعات رونما ہونے لگے ہیں اور دن بدن تیزی کے ساتھ ایسے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ جس سے اخلاقی بحران کا خطرہ پہلے سے بہت زیادہ بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔یہ بات باقی یورپ میں بھی ہے لیکن باقی یورپ میں اخلاقی بحران دنیا کے لئے اتنا شدید خطرہ نہیں بن سکتا جتنا جرمنی کا اخلاقی بحران دنیا کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ نائسی ازم اور فیشی ازم کے خیالات ان قوموں میں بڑھتے ہیں جن میں اجتماعیت کی گہری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں اور جو روزمرہ زندگی میں دیکھتی ہیں کہ قوم کے مفادات کے تقاضے قومی رہنما پورے نہیں کر رہے۔ایسی صورت میں ساری قوم کے دل میں ایک بے چینی پیدا ہوتی ہے، ایک بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے وہ اپنے نظام حیات سے غیر مطمئن ہو کر واپس اس اجتماعیت کی طرف واپس ضرور لوٹتے ہیں جس کے ساتھ ان کا خمیر گوندھا ہوا ہوتا ہے۔پس جرمن قوم کا ضمیر اجتماعیت سے گوندھا گیا ہے اور سارے یورپ میں کسی اور قوم کا خمیر اس طرح اجتماعیت سے نہیں گوندھا گیا جیسا جرمن قوم کا گوندھا گیا ہے۔یہ وہ قوم ہے جس کے اندر بعض ایسی عادات ہیں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے روحانی قوموں سے ان کی مماثلت ہے۔جب روحانی انقلاب دنیا میں برپا ہوتے ہیں تو بکھرے ہوئے لوگ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہوتے ہیں، ایک آواز پر لبیک کہنا سکھتے ہیں ، ایک ہاتھ کی حرکت پر اٹھنے کا سلیقہ سیکھ لیتے ہیں، ایک ہاتھ کی حرکت پر بیٹھنے کا سلیقہ سیکھ لیتے ہیں۔اور اس طرح قومی اجتماعیت ایک عظیم قوت کے طور پر دنیا میں رونما ہوتی ہے۔اس قوم میں یہ اجتماعیت کی بنیادی صفت موجود ہے۔کہیں دنیا میں کسی قوم میں اپنے رہنماؤں کے پیچھے قومی مفادات کی خاطر اکٹھے ہونے کی ایسی صلاحیت نہیں جیسی اس قوم میں موجود ہے۔چنانچہ چرچل نے جو جنگ کے بعد جنگی حالات پر تبصرے کئے اور نازی ازم کا تجزیہ کیا تو چرچل بھی اس نتیجے پر پہنچا کہ در حقیقت جرمن میں جس طرح اپنے رہنماؤں کی اطاعت کی صلاحیت ہے یورپ یا مغرب کی کسی اور قوم میں وہ صلاحیت نہیں۔یہ وہ صلاحیت ہے جو رفتہ رفتہ ایک ایسی leadership کو جنم دیتی ہے جس نے لازماً ایک عظیم قومی کردار ادا کرنا ہے۔اگر وہ کردار اپنے لائحہ عمل کے لحاظ سے فاسدا نہ ہو تو آنکھیں بند کر کے ساری قوم اس فاسدانہ کردار کی متابعت کرے گی اور اگر وہ کردار اپنی اجتماعی حیثیت سے صالحانہ ہو تو ساری قوم آنکھیں بند کر کے بغیر پوچھے کیوں اور کیا ہورہا ہے وہ اپنے رہنماؤں کی پیروی کرے گی یہ اس قوم کی سرشت میں داخل ہے۔اور اس معاملے میں میں چرچل کے ساتھ پوری طرح متفق ہوں۔میرا اپنا تجزیہ اس قوم کے متعلق ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ساری مغربی دنیا میں