مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 506

506 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اور مستحکم ہو چکی ہے۔پس آپ کو اپنے کردار پر نظر رکھنی ہو گی۔وہ کردار ادا کرنا ہوگا جو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے وقت کو قریب ترلے آئے۔ایسے کردار سے اجتناب کرنا ہوگا جو اس پیشگوئی کو مستقبل میں دور دھکیل دے۔یہاں تک کہ آپ خوش نصیب ہونے کی بجائے وہ بد نصیب لوگ ہوں جیسا کہ موسیٰ کی قوم تھی جنہوں نے باوجود خدا کے وعدے کے اس وعدے کو پورا ہوتے اپنے دور میں اپنے زمانے میں نہیں دیکھا بلکہ بعد میں آنے والوں نے اس وعدے کا فیض اٹھایا۔پس میری دعا یہ ہے کہ آپ وہ جو میرے سامنے میرے مخاطب ہیں، یہ زندہ نسلیں جو آج میرے سامنے بیٹھی ہیں یا جرمنی میں مختلف جگہ پر اس وقت مقیم ہیں خدا اس زمانے میں آپ کی ہی زندگیوں میں اور خود مجھے بھی یہ توفیق بخشے کہ میں آپ کی زندگی کے ساتھ ان خوشخبریوں کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھوں اور اس کا بہت بڑا دار و مدار آپ کے نیک اعمال پر ہے۔ایسی قوم جیسی جرمن قوم ہے اس میں روحانی انقلاب بر پا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس کے لئے ان سے بہتر اور عظیم تر کردار کا نمونہ دکھانا ہوگا۔یہ تو میں وہ ہیں جو علمی لحاظ سے، جو صنعتی ترقیات کے لحاظ سے، جو مادی ترقیات کے لحاظ سے آپ سے اتنا زیادہ آگے بڑھ چکی ہیں کہ اس پہلو سے آپ ان کو آواز بھی نہیں پہنچا سکتے۔آواز تو وہ دیتا ہے جس کے سامنے قافلہ اس کی حد نظر میں ہو۔اس کی آواز کی پہنچ میں ہو۔لیکن مادی ترقیات کا جرمن قافلہ تو اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ یورپین قو میں ، جو دوسری یورپین قومیں ہیں، یہ بھی حسرت سے ان کو دیکھ رہی ہیں اور اس خوف سے تھر تھرا رہی ہیں کہ آئندہ چند سالوں میں یہ قوم اتنی تیزی سے آگے بڑھ جائے گی کہ ہماری پہنچ سے باہر ہو جائے گی۔کئی قوموں کے دل میں خوف کھلبلانے لگے ہیں۔کئی قوموں کے دل میں ایسی ترکیبیں آ رہی ہیں کہ جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ اس طرح منسلک ہو جائیں کہ ان کا آگے بڑھنا اُن کا آگے بڑھنا ہو جائے۔اسے ان کو کسی قسم کا خوف باقی نہ رہے۔یہ باتیں ساری منصہ شہود پر ابھر آئی ہیں۔ان کو تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر وہ کون سی ایسی خصوصیت ہے جس کے نتیجے میں آپ ان کو پیغام دے سکتے ہیں اور بالا حیثیت سے پیغام دے سکتے ہیں ، وہ اخلاقی قدریں ہیں۔بدنصیبی سے اس وقت جرمنی میں باقی یورپ کی طرح اخلاقی قدریں بہت تیزی سے مجروح ہورہی ہیں اور اتنی تیزی سے مجروح ہو رہی ہیں اور ان کا دائرہ اتنا پھیل رہا ہے کہ وہ قوم جس کے سیاسی رہنماؤں اور بڑے بڑے حکومت کے افسران اور سر برا ہوں وغیرہ سے متعلق کبھی یہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اپنے ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو قربان کر سکتے ہیں۔اس قوم کے متعلق آج سے پندرہ بیس سال پہلے یہ وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ اس قوم کے افراد مالی فوائد کی خاطر اصولوں کو قربان کر سکتے ہیں،